السنن المأثورة
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير— گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير باب: گھوڑے، خچر اور گدھے کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 575
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْقَرْيَةِ عَامَ خَيْبَرَ فَنَحَرْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِيَ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ : إِنَّمَا تِلْكَ حُمُرٌ كَانَتْ تَأْكُلُ الْعُذْرَةَ .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے خیبر والے سال ہمیں بستی کے باہر گدھے ملے ہم نے انہیں ذبح کر لیا تو منادی نبی ﷺ نے اعلان کیا کہ ”ہنڈیوں میں جو کچھ ہے الٹ دو“ ہم نے ابلتی ہنڈیاں الٹ دیں۔ ابو اسحاق کہتے ہیں یہ حدیث میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ذکر کی انہوں نے کہا: ”وہ گدھے گندگی کھاتے تھے۔“
وضاحت:
گندگی چھوڑ کر سیب کھانا شروع کر دیں تب بھی گدھے حرام ہی ہیں جیسا کہ واضح فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم گزر چکے ہیں۔