حدیث نمبر: 577
وَأَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
نوید مجید طیب

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ احسان کرنا فرض کیا جب تم (حد و قصاص) میں کسی کو قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھا انداز اپناؤ آدمی کو چاہیے اپنی چھری کی دھار تیز کرلے اور ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“

وضاحت:
➊ اسلام جانور سے بھی حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے حتی کہ کسی کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے تو بھی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے کم تکلیف ہو، تلوار کے ایک ہی وار سے گردن اڑائی جائے نہ کہ پھانسی کی اذیت دی جائے اور جانور کو کند آلہ سے ذبح کر کے تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، روح نکلنے سے قبل کھال نہ اتاری جائے جبکہ ظالم تہذیبیں زندہ جانور کی کھال بھی اتارتی ہیں اور پورے جانور کو مشین کی نذر کر کے اس کا قیمہ بنا دیتی ہیں یہ تہذیب سفاکی اور تہذیب جاہلی کی ابتر شکل ہے اس کو تہذیب نو اور ترقی کسی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں۔
➋ پھر جانور کو ذبح اسلامی طریقے کے مطابق کرنے سے روح جلدی نکلتی ہے تکلیف کم ہوتی ہے اور جانور کو حلال کرنے اور جراثیم سے پاک کرنے کا واحد طریقہ بھی اسلامی ذبیح کا طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب في أكل لحوم الخيل والبغال والحمير / حدیث: 577
تخریج حدیث صحیح مسلم، الصید والذبائح، باب الامر باحسان الذبح والقتل، رقم: 1955۔