حدیث نمبر: 564
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَعَ الْغُلامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدِّمَاءَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى " .
نوید مجید طیب

سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ سے انہوں نے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”ہر بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا لازم ہے اس کی طرف سے عقیقے کا خون بہاؤ اور اس کی میل کچیل دور کرو۔“

وضاحت:
➊ عقیقہ ساتویں روز کرنا چاہیے بچے کی طرف سے دو بکرے یا مینڈھے اور بچی کی طرف سے ایک۔
➋ میل کچیل دور کرنے سے مراد سر کے بال کاٹنا، ختنہ وغیرہ کرنا اور بال کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کرنا چاہیے۔
➌ ساتویں دن نام رکھنا بھی مسنون عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الغلام مرتهن بعقيقته يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه» [سنن ترمذی: 1522]
ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی رکھا ہوا ہے پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے، اور اس کے سر کے بال منڈوائے جائیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 564
تخریج حدیث سنن ترمذى، الأضاحي، باب الاذان في اذن المولود، رقم: 1515 وقال حسن صحيح وقال الالباني: صحيح۔