السنن المأثورة
باب من أعتق شركا له في عبد— حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
باب من أعتق شركاً له في عبد باب: حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 563
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الْجَرَادِ ، فَقَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعًا فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرَادَ .نوید مجید طیب
ابو یعفور عبدی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : ٹڈی کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات غزوات میں شریک ہوا ہم ٹڈیاں کھاتے تھے۔
وضاحت:
ٹڈی اور مچھلی بغیر ذبح کیے کھائی جاتی ہیں اور یہ دونوں اگر مردہ حالت میں ملیں تو بھی ان کو کھانا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أحلت لنا ميتتان: الحوت والجراد» [سنن ابن ماجہ: 3218]
ہمارے لیے دو مردار حلال قرار دیے گئے ہیں: مچھلی اور ٹڈی۔
ہمارے لیے دو مردار حلال قرار دیے گئے ہیں: مچھلی اور ٹڈی۔