حدیث نمبر: 562
أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، مَوْلَى الأَسْلَمِيِّينَ , عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ بِلالِ ابْنَةُ هِلالٍ ، عَنِ أَبِيهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُجْزِئُ الْجَذْعُ مِنَ الضَّأْنِ ضَحِيَّةً " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا عَنِ ابْنِهَا وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِيهَا .
نوید مجید طیب

سیدہ ام بلال بنت ہلال رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے سے بیان کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بھیڑ کے جذعہ کی قربانی جائز ہے۔“ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے روایت ام بلال رضی اللہ عنہا کی بیٹے سے ہی پڑھ کر سنائی لیکن حقیقت میں وہ اپنے والد سے بیان کرتی ہیں۔ (درست والد ہی ہے)

وضاحت:
➊ یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجے کی ہے صحیح بات یہ ہے کہ جب دو دانتا کم پڑ جائے تو بھیڑ کا جذعہ کفایت کرے گا۔ [مسلم: 1963]
➋ جذعہ محققین نے ایک سال کا بھیڑ کا بچہ بتایا ہے بعض چھ ماہ بھی جذعہ کا ترجمہ کرتے ہیں اس حدیث کی رو سے کہتے ہیں کہ جذعہ صرف بھیڑ کا جائز ہے بکری کا جذبہ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔ [دیکھئے حدیث نمبر: 558]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 562
تخریج حدیث سنن ابن ماجه، الأضاحي، باب ما تجزى من الأضاحي، رقم: 3139 وقال الالبانی ضعیف، مسند احمد: 633/44، رقم: 27073 وقال الارنوؤط: حسن لغيره وهذا اسناد ضعيف۔