حدیث نمبر: 552
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي فَجِئْتُهَا وَفُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا ، فَقَالَتْ : أَكَلَهَا الذِّئْبُ ، فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا ، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ أَفَأُعْتِقُهَا ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " فَقَالَتْ : فِي السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعْتِقْهَا " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَاءٌ كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ : كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَأْتُوا الْكُهَّانَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : وَكُنَّا نَتَطَيَّرُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ فَلا يَصُدَّنَّكُمْ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُسَمِّي هَذَا الرَّجُلَ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ وَإِنَّمَا هُوَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ . وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : مَالِكٌ يَقُولُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ هِلالَ بْنَ أُسَامَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيٍّ غَيْرَ أَنَّ قَائِلا قَالَ : هُوَ هِلالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّمَا نَسَبَهُ مَالِكٌ إِلَى جَدِّهِ .
نوید مجید طیب

سیدنا عمر بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی میں اس کے پاس گیا تو ایک بکری غائب تھی میں نے اس بکری کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا بکری بھیڑیا کھا گیا ہے، مجھے اس پر انتہائی افسوس ہوا (کیونکہ) میں بھی بنی آدم سے ہوں میں نے اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا میں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی کیا اس کو آزاد کر دوں؟ (تو اس لونڈی کو لایا گیا) رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ کہنے لگی: ”آسمانوں پر ہے۔“ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ تو اس نے کہا: ”آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔“ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے۔“ تو عمر بن حکم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کچھ کام ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے ہم غیب کی باتیں بتانے والوں کے پاس جایا کرتے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پاس (اسلام کے بعد) مت جاؤ۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پرندوں کے ذریعے قسمت بھی معلوم کیا کرتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وسوسہ ہے جو تمہارے دلوں میں آتا ہے پرندے اور بدشگونیاں تمہیں کسی کام سے نہ روکیں۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مالک رحمہ اللہ اس کا نام عمر بن حکم رضی اللہ عنہ بتاتے تھے حالانکہ یہ معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ تھے۔

وضاحت:
➊ ابوجعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ نے درست نام بتایا۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ اس حدیث کی سند میں ہلال بن اسامہ کہتے ہیں حالانکہ وہ ہلال بن علی رحمہ اللہ ہیں ایک قائل کا یہ بھی قول ہے کہ اُن کا نام ہلال بن علی بن اسامہ رحمہ اللہ ہے اگر معاملہ ایسا ہے تو امام مالک رحمہ اللہ نے راوی کو دادے کی طرف منسوب کیا۔
➋ لونڈی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سوال کیے ایک اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب اس ترقی یافتہ دور میں بھی بڑے بڑے نام نہاد دانشوروں کو نہیں آتا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے جو کہ سراسر غلط ہے اور غیر اسلامی نظریہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر مستوی ہے اللہ کا علم و مشاہدہ ہر چیز کو محیط ہے۔
➌ اللہ رب العزت کے مستوی علی العرش ہونے کا عقیدہ فطری اور ایمان کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اللہ کی ذات سے متعلق جو گمراہ عقائد صوفیوں کی وجہ سے عوام الناس میں رائج ہوئے ان میں سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہر جگہ ماننا، ہر چیز میں تصور کرنا بھی ہے۔ ایک حضرت صاحب کہتے ہیں: اور جو میں ہوں وہ تو ہے اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔ [مکاتیب رشیدیہ: ص 10، فضائل صدقات حصہ دوم: ص 556]
جبکہ دوسرے صاحب بولے: وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کے ایمان کا امتحان لیتے ہوئے دوسرا سوال اپنے متعلق کیا تو اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ خاتون ہے۔ [مسلم: 537]
➎ اس سے ثابت ہوا جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول تسلیم کرے اس کے مومن ہونے کی گواہی آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر نہیں مانتا اور پیارے پیغمبر کو اللہ کا رسول نہیں مانتا وہ مومن نہیں ہے۔
➏ اس حدیث میں شعبدہ باز، پیروں، فقیروں، نجومیوں، جادو گروں کے پاس جانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا کہ کاہن کے پاس مت جاؤ اور کتابیں نکالنے والے، طوطے والے، سب فراڈیوں سے روک دیا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان فتنوں سے محفوظ رکھے۔ «آمين»
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 552
تخریج حدیث صحیح مسلم، المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة رقم: 537۔