السنن المأثورة
باب من أعتق شركا له في عبد— حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
باب من أعتق شركاً له في عبد باب: حصے کی حد تک غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 553
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اونٹ اور گائے سات سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔
وضاحت:
➊ اونٹ دس افراد کی طرف سے بھی کفایت کر جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجہ: 3131]
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے عید قربان آگئی تو گائے میں سات سات افراد اور اونٹ میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ [سنن ترمذي: 905]
➌ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں جس سے بھی عیاں ہوتا کہ ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے۔
➍ بالا حدیث میں عمرہ کا ذکر ہے اس میں اونٹ میں سات آدمی شریک ہوئے ہیں اس سے قربانی میں اونٹ کے لیے سات کی قید لگا دینا درست نہیں۔
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے عید قربان آگئی تو گائے میں سات سات افراد اور اونٹ میں دس دس افراد شریک ہوئے۔ [سنن ترمذي: 905]
➌ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں جس سے بھی عیاں ہوتا کہ ایک اونٹ دس بکریوں کے برابر ہے۔
➍ بالا حدیث میں عمرہ کا ذکر ہے اس میں اونٹ میں سات آدمی شریک ہوئے ہیں اس سے قربانی میں اونٹ کے لیے سات کی قید لگا دینا درست نہیں۔