حدیث نمبر: 551
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ الْعَدْلِ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلا فَقَدْ عَتَقَ عَلَيْهِ مَا عَتَقَ " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس مال ہے جس سے بقیہ حصص بھی آزاد کیے جا سکتے ہیں تو غلام کی قیمت لگائی جائے گی وہی آدمی بقیہ شرکاء کو رقم ادا کر کے اپنی طرف سے پورا غلام آزاد کرے اگر مال نہیں تو پھر غلام اتنا ہی آزاد متصور ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔“

وضاحت:
➊ مشترکہ غلام میں اگر صاحب مال اپنا حصہ آزاد کرے تو اس کی ذمہ داری ہے بقیہ قیمت ادا کر کے مکمل غلام کو آزادی دلائے اگر صاحب مال نہیں تو یہ غلام اتنا آزاد تصور ہوگا اس کا جتنا حصہ آزاد کیا گیا ہے۔
➋ اسلام نے انسانیت کی آزادی کی متعدد راہیں نکالی حتی کہ اب دنیا میں غلام بطور نظام نہیں پایا جاتا یہ اسلام کی انسانیت پر کرم نوازی ہے جبکہ دیگر تہذیبوں نے انسانیت کو منڈی میں بھیڑ بکریوں کی طرح ظلما فروخت کیا جبکہ اسلام میں اگر غلام آئے بھی تو حالت جنگ میں آئے پھر انہیں بھی متعدد طریقوں سے آزاد کیا، کبھی کفارے کی مد میں، کبھی شادیاں کر کے ام الولد کو کبھی مکاتبت اور کبھی اجر کی ترغیب دے کر انسانیت کو آزادی بخشی بلکہ اسلام کی بدولت ان ہی غلاموں کو گورنر اور بادشاہ تک بنایا گیا ایسی مثال پیش کرنے سے دیگر تہذیبیں قاصر ہیں۔
➌ مذکورہ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک غلام کئی افراد کی ملکیت بھی ہوسکتا ہے۔
➍ اسلام میں آج بھی کسی کو غلام بنا کر رکھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ شخص شرعی اصولوں کے مطابق غلام بنا ہو۔
➎ ملازمت کے لیے بھٹہ خشت کے مزدوروں اور جانوروں کو چارہ ڈالنے والے ملازموں کو غلام سمجھنا درست نہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب من أعتق شركا له في عبد / حدیث: 551
تخریج حدیث صحیح بخاری، العتق، باب اذا اعتق عبدا بين اثنين الخ، رقم: 2522؛ صحیح مسلم، الأيمان والنذور، باب من اعتق شركاً له في عبد، رقم: 1501۔