السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الكسوف— نماز کسوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الكسوف باب: نماز کسوف کا بیان
أَنْبَأَنَا أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " صَلَّى عَلَى ظَهْرِ زَمْزَمَ لِكُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ , فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَانِ " . وَسَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِّيُّ : إِنَّمَا صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَحْدَهُ ؛ لأَنَّ الإِمَامَ لَمْ يُصَلِّ , وَلَوْ صَلَّى الإِمَامُ لَصَلَّى بِصَلاتِهِ , وَهَكَذَا مَا رَأَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ بِمَكَّةَ : تَرَكَ الإِمَامُ الصَّلاةَ , فَلَمْ تَكُنْ جَمَاعَةٌ تُصَلَّى , وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى بَعْضَهُمْ يَدْعُو قَائِمًا بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَمَّا مَنْ رَأَى مِنَ الْمَكِّيِّيِنَ , فَلَيْسُوا يَتَوَقَّوْنَ الصَّلاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ فِيمَا يَلْزَمُهُمْ ، يُصَلُّونَ لِلطَّوَافِ وَكُلَّ صَلاةٍ لَزِمَتْ , وَلَعَلَّهُمْ إِنَّمَا تَرَكُوا ذَلِكَ تَقِيَّةً لِلسُّلْطَانِ إِذْ لَمْ يُصَلِّ , فَإِنَّ السُّلْطَانَ قَدْ كَانَ يَعْبَثُ بِهِمْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ . وَأَمَّا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فَمَذْهَبُ أَصْحَابِهِ الْمَدَنِيِّينَ أَنْ لا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ , وَلا بَعْدَ الصُّبْحِ لِطَوَافٍ وَلا غَيْرِهِ , إِلا أَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ الصَّلاةَ الْفَائِتَةَ , وَالصَّلاةَ عَلَى الْجِنَازَةِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ : وَأَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ اسْتِدْلالا بِالسُّنَّةِ أَنْ أُصَلِّيَ كُلَّ صَلاةٍ لَزِمَتْ فِي كُلِّ وَقْتٍ مِنَ الأَوْقَاتِ , وَأَسْتَدِلُّ بِالسُّنَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الصَّلاةِ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا فِيمَا لا يَلْزَمُهُ , وَأَرَى لأَهْلِ الْقُرَى الصِّغَارِ الَّتِي لا إِمَامَ لَهُمْ , وَالْبَوَادِي وَالْمُسَافِرِينَ أَنْ يُصَلُّوا عِنْدَ الْكُسُوفِ مُجْتَمِعِينَ وَمُتَفَرِّقِينَ , وَأَرَى ذَلِكَ لأَهْلِ الأَمْصَارِ إِذْ لَمْ يَكُنِ الإِمَامُ , إِلَى أَنْ يَدَعُوا ذَلِكَ تَقِيَّةً وَالصَّلاةُ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ سَوَاءٌ , لا تَخْتَلِفَانِ , إِلا أَنَّهُ يُجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاةِ فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ , وَيُخَافَتُ بِهَا فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ , لاخْتِلافِ صَلاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ قَالَ : قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَإِذَا دَخَلَ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ كَبَّرَ , ثُمَّ اسْتَفْتَحَ , ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ , ثُمَّ قَرَأَ بَعْدَهَا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا يَكُونُ أَكْثَرَ مِنْ نِصْفِ قِيَامِهِ , ثُمَّ رَفَعَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ , وَسُورَةٍ تَكُونُ نَحْوًا مِنْ مِائَتَيْ آيَةٍ , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا أَخَفَّ مِنْ رُكُوعِهِ الأَوَّلِ , ثُمَّ سَجَدَ , ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , إِلا أَنَّهُ يَجْعَلُ الْقِيَامَيْنِ فِيهَا أَخَفَّ مِنَ الْقِيَامَيْنِ فِي الأُولَى , ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ , وَإِنْ سَهَا فِيهَا , فَالسَّهْوُ فِيهَا كَالسَّهْوِ فِي صَلاةٍ غَيْرِهَا , يَسْجُدُ لَهُ قَبْلَ السَّلامِ , وَإِنِ انْصَرَفَ قَبْلَ تَجَلِّي الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ عِنْدِي أَنْ يَعُودَ لِصَلاةٍ أُخْرَى , وَلَوْ عَادَ النَّاسُ مُنْفَرِدِينَ فَصَلُّوا , كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ , وَلَوْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَأَبْطَأَ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى انْجَلَتْ كُلُّهَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَنْ يُصَلِّيَ ؛ لأَنَّهَا صَلاةٌ فِي وَقْتٍ , إِذَا زَالَ لَمْ تُصَلَّ فِي غَيْرِهِ ؛ لأَنَّ أَصْلَهَا لَيْسَ بِفَرْضٍ , وَلَوْ تَجَلَّى أَكْثَرُهَا , وَبَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ صَلَّى , وَلَوْ دَخَلَ فِي الصَّلاةِ ثُمَّ تَجَلَّتْ مِنْ مَكَانِهَا أَوْ بَعْدَ ذَلِكَ مَضَى لِصَلاتِهِ ؛ لأَنَّهُ دَخَلَ فِيهَا فِي وَقْتٍ أُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ وَيُتِمَّهَا كَمَا كَانَ يُتِمُّهَا لَوْ لَمْ تَنْجَلِ , وَلَوْ كُسِفَتْ فَغَابَتِ الشَّمْسُ وَهِيَ كَاسِفَةٌ , وَقَدْ فَرَّطَ فِي الصَّلاةِ فِي النَّهَارِ وَلَمْ يُصَلِّ صَلاةَ الْكُسُوفِ لِلشَّمْسِ فِي اللَّيْلِ , وَيُصَلِّيهَا فِي النَّهَارِ مَا كَانَتْ كَاسِفَةً , الْقَمَرُ فِي كُلِّ مَا وَصَفْنَا فِي الشَّمْسِ مِنَ الصَّلاةِ . وَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ مَالِكٍ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ , فَاذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ كَهِيَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ؛ لأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذِكْرِ اللَّهِ عِنْدَ كُسُوفِهَا أَمْرًا وَاحِدًا , وَقَدْ يَذْكُرُ اللَّهَ فَيَفْزَعُ إِلَيْهِ بِنَوْعٍ مِنْ أَعْمَالِ الْبِرِّ , فَلَمَّا فَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ كَانَ الذِّكْرُ الَّذِي أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ الذِّكْرَ لِيُصَلَّى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . وَهَذَا يُشْبِهُ مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى مَعَ أَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ يُبَيِّنُ أَنَّهُ أَمَرَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ , وَأَمْرُهُ كَفِعْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي يَحْيَى يُبَيِّنُ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الْقَمَرِ . وَقَدْ حَضَرْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا مَنْ يُصَلِّي عِنْدَ كُسُوفِ الْقَمَرِ وَيَأْمُرُ بِهِ الْوُلاةَ , وَيُصَلِّي مَعَهُمْ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَلا أَرَى لازِمًا أَنْ يَجْمَعَ صَلاةً عِنْدَ شَيْءٍ مِنَ الآيَاتِ غَيْرَ الْكُسُوفِ , وَقَدْ كَانَتْ آيَاتٌ , مَا عَلِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالصَّلاةِ عِنْدَ شَيْءٍ مِنْهَا , وَلا مِنْ خُلَفَائِهِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ , وَقَدْ زُلْزِلَتِ الأَرْضُ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَمَا عَلِمْنَاهُ صَلَّى , وَقَدْ قَامَ خَطِيبًا , فَحَضَّ عَلَى الصَّدَقَةِ , وَأَمَرَ بِالتَّوْبَةِ . وَأَنَا أُحِبُّ لِلنَّاسِ أَنْ يُصَلِّيَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مُنْفَرِدًا عِنْدَ الظُّلْمَةِ وَالزَّلْزَلَةِ وَشِدَّةِ الرِّيحِ وَالْخَسْفِ وَانْتِشَارِ النُّجُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنَ الآيَاتِ وَقَدْ رَوَى الْبَصْرِيُّونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى بِهِمْ فِي زَلْزَلَةٍ , وَإِنَّمَا تَرَكْنَا ذَلِكَ لِمَا وَصَفْنَا مِنْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْ بِجَمْعِ الصَّلاةِ إِلا عِنْدَ الْكُسُوفِ , وَأَنَّهُ لَمْ يُحْفَظْ أَنَّ عُمَرَ عَلَيْهِ السَّلامُ صَلَّى عِنْدَ الزَّلْزَلَةِ .صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مکہ میں زمزم کے کنویں پر (اکیلے ہی) نماز کسوف دو رکعت چار رکوعات کے ساتھ اداء فرما رہے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اکیلے اس لیے نماز اداء فرمائی کیونکہ امام نے نماز نہ پڑھائی تھی اگر امام پڑھاتا تو اس کے ساتھ پڑھتے۔ اسی طرح لیث بن سعد رحمہ اللہ نے مکہ میں دیکھا کہ امام صلاۃ کسوف نہیں پڑھاتے تھے تو جماعت نہیں ہوتی تھی اور انہوں نے ذکر کیا کہ بعض لوگ عصر کے بعد کھڑے ہو کر دعا فرما رہے ہوتے تھے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر جو صلاۃ عصر کے بعد صلاۃ کسوف پڑھنے کے منکر ہیں اُن کو لازم آتا ہے کہ وہ طواف کی دو رکعات تو پڑھتے ہیں ! اسی طرح لازمی نماز بھی پڑھ لیتے (جیسے نماز قضاء وغیرہ) ہیں۔ اُن کو پتہ ہونا چاہیے کہ اہل مکہ نے جو با جماعت صلاۃ الکسوف چھوڑی تھی وہ اس وقت کے حکمران سے بچنے کے لیے ایسا کیا تھا حکمران اس کا قائل نہیں تھا اس زمانے کا حکمران دینی معاملات میں کھلواڑ کرتا رہتا تھا۔ ایوب بن موسیٰ رحمہ اللہ کے مدنی اصحاب کا مذہب ہے کہ عصر اور فجر کے بعد طواف وغیرہ کے بھی نوافل نہیں پڑھنے چاہئیں لیکن ان پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ پھر فوت شدہ نماز اور نماز جنازہ کیوں ان اوقات میں پڑھتے ہو؟؟ امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہی ہے کہ سببی نماز کسی بھی وقت اداء کی جاسکتی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوعہ اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کیا ہے وہ سببی ولازمی کے علاوہ ہے یعنی عام نوافل وغیرہ سے متعلق نہی ہے۔ امام صاحب کہتے ہیں کہ میری رائے کے مطابق چھوٹی بستیاں ، دیہات اور مسافر لوگ بھی صلاۃ کسوف با جماعت یا اکیلے پڑھیں ، اہل امصار بھی ایسا کریں اگر اُن کو امام میسر نہیں الا یہ کہ تقیہ کرتے ہوئے یعنی حاکم کے فتنہ سے ڈر کر چھوڑ دیں تو اور بات ہے۔ اور سورج و چاند کے گرہن کے مسائل ایک جیسے ہیں البتہ سورج گرہن چونکہ دن کو ہوتا تو قرأت تھوڑی آہستہ اور چاند گرہن رات کو ہوتا ہے تو قرأت اونچی کرنی چاہیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ نماز کسوف شروع کرتے ہوئے تکبیر کہے پھر دعا استفتاء پھر فاتحہ پھر تقریبا سورۃ بقرہ جتنی لمبی قرأت پھر لمبارکوع جو کہ سورۃ بقرہ کے نصف برابر ہو کرے پھر رکوع سے اٹھ کر دوبارہ سورۃ فاتحہ پھر تقریباً دوسو آیات پڑھے پھر پہلے رکوع سے چھوٹا رکوع کرے، پھر سجدہ کرے پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرے البتہ دوسری رکعت کے قیام پہلی رکعت کے قیام سے چھوٹے ہونے چاہئیں پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ اگر نماز کسوف میں بھول ہو جائے تو دوسری نمازوں کی طرح سلام پھیرنے سے قبل سجدہ سہو کرے۔ اگر نماز کسوف گرہن ختم ہونے سے قبل پوری ہو جائے تو میرا فتویٰ یہ نہیں کہ دوبارہ نماز پڑھنا شروع کر دے۔ ہاں اگر بعد میں بھی لوگ منفرد طور پر نوافل اداء کرتے ہیں تو اُن کی مرضی ہے۔ اگر گرہن لگا لیکن بندہ آئیں بائیں شائیں کرتا رہا پھر گرہن ختم ہو گیا تو گرہن ختم ہونے کے بعد اس پر نماز نہیں کیونکہ اس نماز کا وقت نکل گیا ہے نماز بغیر وقت کے نہیں پڑھے گا کیونکہ اصلاً صلاۃ کسوف فرض نہیں۔ اگر اکثر گرہن ختم ہو گیا اور تھوڑا باقی ہے تو بھی نماز پڑھ لے۔ اگر دوران نماز گرہن ختم ہو گیا تو نماز پوری کرے کیونکہ نماز کی شروعات وقت میں ہوئی تھی۔ اگر گرہن لگتے ہی سورج غروب ہو جائے تو نماز نہ پڑھے کیونکہ سورج گرہن کی نماز رات کی نماز نہیں بلکہ دن میں پڑھنی ہے جب تک گرہن ہے۔ اور یہی احکام چاند کے بھی ہیں کیونکہ حدیث میں ہے سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کا تعلق کسی کی موت وحیات سے نہیں جب تم ان کو دیکھو اللہ کا ذکر کرو۔ تو یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ چاند گرہن پر بھی نماز ہے کیونکہ دونوں نشانیوں کے بعد ایک ہی حکم دیا کہ ذکر کرو نماز پڑھو۔ اللہ کا ذکر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے نیکی کے اعمال کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گرہن دیکھ کر گھبرائے تو نماز کا حکم دیا یہ حکم حکم قرآنی کی طرح ہے۔ ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾ [العلى : 14-15] حدیث سفیان رحمہ اللہ میں بیان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف شمس و قمر میں نماز کا حکم دیا آپ کا حکم آپ کے عمل کی طرح ہے۔ ابن ابی یحییٰ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند گرہن پر نماز پڑھی ، ہمارے فقہاء کسوف قمر پر نماز پڑھتے ہیں اور گورنر کو بھی حکم دیتے اور اُن کے ساتھ یہ نماز پڑھتے رہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ گرہن کے علاوہ اگر کوئی نشانی ظاہر ہو تو با جماعت نماز لازم نہیں، دیگر نشانیاں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ظاہر ہوتی رہیں آپ نے کسی اور نشانی پر نماز کا حکم نہیں دیا اور نہ آپ کے بعد خلفاء نے ایسا کیا۔ عہد فاروقی میں زلزلہ آیا لیکن ہمارے علم میں نہیں کہ انہوں نے نماز پڑھی بلکہ خطبہ دیا صدقہ کی ترغیب دی اور توبہ کا حکم دیا۔ شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے پسند ہے کہ اندھیرا، زلزلہ، آندھی ، خسف اور ستارے گرنے پر یا اس طرح کی دوسری نشانیوں کے ظہور پر آدمی اکیلے نماز پڑھے با جماعت نہ پڑھے۔ مصریوں نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے زلزلہ کے موقع پر اُن کو جماعت کرائی امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر عمل ترک کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کسوف کے موقع پر جماعت کرائی ، اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زلزلہ کے موقع پر کوئی جماعت کرائی۔
➋ یہ بھی معلوم ہوا کہ مکہ اور مدینہ کے امام کا بھی عمل اسی وقت قابل حجت ہے جب سنت کے مطابق ہوگا۔
➌ حکمران کے فتنہ سے بچنے کے لیے کبھی مسنون عمل کو فرداً فرداً بھی اداء کیا جا سکتا ہے۔