السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الكسوف— نماز کسوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الكسوف باب: نماز کسوف کا بیان
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ , فَحَدَّثَنَا فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَشَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ نَنْتَضِلُ بَيْنَ غَرَضَيْنِ لَنَا , إِذِ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ , فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلِقْ بِنَا , فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَثًا فِي أَصْحَابِهِ , فَانْطَلَقْنَا , فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ , وَهُوَ يَأْزَزُ , فَوَافَقْنَا خُرُوجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِنَا , فَقَامَ كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ فِي صَلاةٍ قَطُّ , لا نَسْمَعُ لَهُ حِسًّا , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ , ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ , فَوَافَقَ فَرَاغَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ تَجَلِّي الشَّمْسِ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا أَوْ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَحَمِدَ اللَّهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ رِجَالا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ , وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ , وَقَدْ كَذَبُوا , لَيْسَ كَذَلِكَ , وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ فِيهِمْ تَوْبَةً , أَلا وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا مَا أَنْتُمْ لاقُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَلَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالا كَذَّابًا , كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَعَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , آخِرُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ , مَمْسُوخُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى , كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى ، لِرَجُلٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَمَنْ صَدَّقَهُ وَآمَنَ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ , وَمَنْ كَذَّبَهُ وَكَفَرَ بِهِ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ " .ثعلبہ بن عباد العبدی رحمہ اللہ سے روایت ہے ہمیں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور خطبہ میں حدیث بیان کی کہ میں اور ایک انصاری نوجوان نشانہ بازی کر رہے تھے سورج بلند ہوا پھر سیاہ ہو گیا گویا کہ تنومہ بوٹی ہو (جو سیاہی مائل ہوتی ہے) ہم نے آپس میں کہا چلو چلیں اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی اس کیفیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ضرور کوئی نئی بات ارشاد فرمائیں گے ہم مسجد کی طرف آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے ہم بھی اسی وقت آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جماعت کرائی اور آپ نے نہایت لمبا قیام کرایا ایسا لمبا قیام کبھی کسی بھی نماز میں نہیں کرایا تھا آپ کی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی پھر ایسا لمبا رکوع کیا جو عام نمازوں میں نہیں کرتے تھے آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی پھر کھڑے ہو کر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے سورج صاف ہو چکا تھا پھر آپ نے خطبہ دیا یا منبر پر کھڑے ہوئے حمدوثنا کے بعد فرمایا: ”«أَمَّا بَعْدُ» ! کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شمس و قمر کا گرہن اور ستاروں کا ٹوٹنا کسی اہل ارض میں سے بڑے کی موت کے باعث ہوتا ہے، یقیناً ان کا نظریہ مبنی بر جھوٹ ہے حقیقت میں یہ اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ دیکھتے ہیں توبہ کون کرتا ہے، میں نے اپنے اس مقام پر وہ سب دیکھا جس سے تمہارا قیامت تک پالا پڑنے والا ہے، قیامت ہرگز نہیں آئے گی حتیٰ کہ 30 دجال کذاب نکلیں گے، ہر ایک اللہ پر جھوٹ باندھے گا اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی، اُن جھوٹوں کا آخری کانا دجال، بے نور دائیں آنکھ والا ہو گا جیسے ابی یحییٰ کی آنکھ ہے یہ آدمی دوران خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بیٹھا ہوا تھا۔ جس شخص نے دجال کی تصدیق کی اور اس پر ایمان لایا، اس کو گزشتہ صالح اعمال بھی نفع نہ دیں گے اور جس نے اسے جھوٹا کہا اور اس کے ساتھ کفر کیا اس کے سابقہ بد اعمال اس کا کچھ نقصان نہیں کریں گے۔“
➋ نماز کسوف اور خسوف میں ایک رکعت میں دو، تین اور چار رکوع ہیں قراءت بھی جہری ہوتی ہے۔ [ديكهئے: فوائد حديث نمبر 52]
➌ حدیث کے الفاظ آواز سنائی نہیں دے رہی تھی سے سری قراءت پر استدلال کرنا درست نہیں کیونکہ ایک تو روایت ضعیف ہے دوسرا راوی حدیث اگر اس کو قابل حجت بھی مان لیں تو رش کی وجہ سے پچھلی صفوں میں ہوں گے جس سے انہیں آواز سنائی نہیں دے رہی ہوگی۔
➍ نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم فارغ اوقات میں نشانہ بازی، جہاد کی تیاری کیا کرتے تھے جبکہ ہمارے نوجوان فرصت میں فیس بک چلاتے ہیں، اللہ ان کو ہدایت دے نوجوان قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، اپنے اوقات ہر اس کام میں صرف کرنے چاہئیں جو امت کے لیے نفع بخش ہوں اگر یہی نوجوان فارغ اوقات میں اللہ کا دین سیکھیں، احادیث پڑھیں، صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ اور محدثین رحمہ اللہ کی سیرت پر کتابیں پڑھیں، مطالعہ کتب اور کتاب بینی کا شوق پیدا کر لیں تو ان سے خیر پھوٹے جو ملک و ملت کے لیے باعث خیر ہو اور سوشل میڈیا کے گند سے بھی بچ جائیں۔
➎ احادیث صحیحہ میں تیس دجالوں کا ذکر آیا ہے اور ان کا آخری کانا دجال ہو گا۔ [مسند احمد: 16/5]
➏ اسی طرح احادیث صحیحہ میں دجالوں کا بھی ذکر آیا ہے دجال دجل سے ہے جس کا مطلب دھوکہ ہے بڑا دجال تو قیامت کے قریب نمودار ہو گا لیکن چھوٹے چھوٹے دجال ہر گلی میں آپ کو مل جائیں گے جو بڑے دجال کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں دجال لوگوں سے جو کام کروائے گا اس کی پریکٹس یہ چھوٹے دجال امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی ایک بڑی تعداد سے کروا رہے ہیں تا کہ دجال آئے تو آگے ذہنی طور پر اس کے پیروکار بالکل تیار ہوں۔
➐ تمام شعبدہ بازیاں، قسمت کی خبریں دینا، غیب کے دعوے، شیطانوں سے مرید کے حال احوال پوچھ کر مرید کو بتا کر اپنا پرستار بنا لینا، جادو کو کرامتوں کے نام دے کر گرویدہ کرنا، یہ سب بڑے دجال کے لیے میدان تیار کرنا ہے۔
➑ مسیح الدجال اس کائنات کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے ظہور کے بعد ایمان لانا فائدہ نہ دے گا۔ [صحیح مسلم: 158]
➒ دجال اور اس کے فتنوں سے ہر نبی نے اپنی امت کو خبردار کیا ہے۔ [صحیح مسلم: 2946]
➓ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال دنیا کے ہر ملک کو تاراج کرے گا۔[صحیح بخاری: 1881]
⓫ دجال کے ساتھ آگ اور پانی بھی ہو گا، اس کی آگ دراصل ٹھنڈا پانی اور اس کا پانی در حقیقت آگ ہوگی۔ [صحیح بخاری: 7130]
⓬ اصفہان (ایران کے دارالحکومت تہران سے جنوب کی جانب قریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر) کے ستر ہزار جبہ پوش یہودی دجال کے پیروکار بن جائیں گے۔ [صحیح مسلم: 2944]
⓭ کافر و منافق مدینہ سے نکل کر دجال کے پیروکار بن جائیں گے۔ [صحیح بخاری: 1881]
⓮ جاہل اور گنوار دیہاتی بھی دجال کے پیروکار ہوں گے۔ [سنن ابن ماجہ: 4077]
⓯ بہت سی عورتیں بھی دجال کے لشکر میں شامل ہو جائیں گی۔ [مسند احمد: 67/2]
⓰ فتنہ دجال سے محفوظ رہنے کے لیے، دجال کی خبر سن کر اس سے دور رہنا ضروری ہے۔ [سنن ابی داؤد: 4319]
⓱ سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرنے والا بھی فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ [صحیح مسلم: 809]
⓲ آخری تشہد میں دجال سے پناہ مانگنا مسنون عمل ہے۔ [صحیح بخاری: 1377، صحیح مسلم: 588]
⓳ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو "باب لد" میں قتل کریں گے۔ [سنن ترمذی: 2244]
(20) بنو تمیم قبیلے کے لوگ دجال کے مقابلے میں سب سے سخت واقع ہوں گے۔ [صحیح بخاری: 2543]