حدیث نمبر: 534
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ فَغَرَسَهُ فِي حَائِطِ سَيِّدِهِ فَخَرَجَ صَاحِبُ الْوَدِيِّ يَلْتَمِسُ وَدِيَّهُ فَوَجَدَهُ فَاسْتَعْدَى عَلَى الْعَبْدِ إِلَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَسَجَنَ الْعَبْدَ وَأَرَادَ مَرْوَانُ قَطْعَ يَدِهِ فَانْطَلَقَ سَيِّدُ الْعَبْدِ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخَذَ غُلامِي وَهُوَ يُرِيدُ قَطْعَ يَدِهِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَمْشِيَ مَعِي إِلَيْهِ فَتُخْبِرَهُ بِالَّذِي سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَشَى مَعَهُ رَافِعٌ حَتَّى أَتَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ : أَخَذْتَ غُلامًا لِهَذَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ صَانِعٌ بِهِ ، قَالَ : أَرَدْتُ قَطْعَ يَدِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَافِعٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " ، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالْعَبْدِ فَأُرْسِلَ .
نوید مجید طیب

محمد بن یحیی بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے ایک غلام نے کھجور کا ایک پودا چوری کر کے اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا تو پودے کا مالک پودا تلاش کرتے ہوئے آیا اسے وہاں پایا تو اس غلام کا مقدمہ مروان بن حکم رحمہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوا، مروان رحمہ اللہ نے غلام کو قید کیا اور چاہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دے تب غلام کا مالک، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے گیا تو رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”پھل چرانے یا کھجور کا گودا چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“ اس آدمی نے کہا کہ مروان بن حکم رحمہ اللہ نے میرا غلام گرفتار کیا ہوا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیں مروان رحمہ اللہ کو حدیث رسول ﷺ سنائیں تو اس آدمی کے ساتھ سید نا رافع رضی اللہ عنہ، مروان رحمہ اللہ کے پاس گئے سید نا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے مروان! کیا آپ نے اس آدمی کے غلام کو گرفتار کیا ہے؟“ اس نے کہا ”ہاں“، پوچھا: ”اس کے متعلق کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا ”میں تو اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں“، تو سید نا رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”پھل اور کھجور کی گری کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ تو مروان رحمہ اللہ نے غلام کو رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 534
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الحدود، باب مالا قطع فیہ، رقم: 4388، سنن نسائی، قطع السارق، باب مالا قطع فیہ، رقم: 4967 وقال البانی صحیح.