حدیث نمبر: 535
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، أَنَّ عَبْدًا سَرَقَ وَدِيًّا مِنْ حَائِطِ رَجُلٍ ، فَجَاءَ بِهِ فَغَرَسَهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ ، فَأَتَى بِهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَهُ فَشَهِدَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ " .
نوید مجید طیب

واسع بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک غلام نے کھجور کا پودا چوری کر کے دوسری جگہ لگا دیا اسے مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس لایا گیا اس نے غلام کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو سید نا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ وہاں حاضر ہوئے اور عرض کیا : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”پھل اور گودے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔“

وضاحت:
➊ خلافتِ بنو امیہ بھی اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کا سنہری دور تھا جس میں حدود اللہ نافذ تھیں قرآن و حدیث کی پاسداری کی جاتی تھی تاریخِ اسلام کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت بنی امیہ کی خلافت و سلطنت ہے جس نے ہند و سندھ اور افریقہ و یورپ میں اسلام کے جھنڈے گاڑے اور تاریخ کے اوراق پر ان مٹ سنہری نقوش چھوڑے اگرچہ بعض ناگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔
➋ مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچی تو اس نے اپنا فیصلہ اور اپنی بات فوراً چھوڑ کر حدیثِ نبوی کو اختیار کیا: عقل قربان کن بہ پیش مصطفیٰ
مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آجانے پر اپنی رائے اور عقل کو قربان کر دو۔
➌ معلوم ہوا پھل یا کھجور کی گری چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اگر قاضی اور عدالت مناسب سمجھے تعزیر سزا دے سکتی ہے۔
➍ حدیث میں موجود پھل سے مراد درختوں پر لگا ہوا پھل ہے کولڈ اسٹور وغیرہ سے پھل چرانے پر حد نافذ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ومن سرق منه شيئا بعد أن يؤويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة» [سنن ابی داؤد: 4390]
اور جس نے پھل کو کھلیان میں محفوظ کر دینے کے بعد چرایا اور اس کی قیمت ایک ڈھال کو پہنچے تو اس پر چور کا ہاتھ کاٹنا ہے اور جو کوئی اس سے کم چرائے تو اس پر چوری شدہ کا دو گنا جرمانہ اور سزا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 535
تخریج حدیث سنن ترمذی، الحدود، باب ماجاء لا قطع فی ثمر ولا کثر، رقم: 1449، وقال البانی : صحیح سنن ابن ماجہ، الحدود، باب لا یقطع فی ثمر ولا کثر، رقم: 2593