حدیث نمبر: 533
عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قِيلَ لَهُ : إِنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ ، فَقَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ ، فَأَخَذَ صَفْوَانُ السَّارِقَ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .
نوید مجید طیب

سیدنا عبد اللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا تو صفوان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے، مسجد میں ہی قیام کیا اپنی چادر کو تکیہ بنایا چور آیا اس نے چادر چرا لی تو صفوان رضی اللہ عنہ نے چور کو پکڑ لیا جسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا یہ ارادہ نہیں تھا کہ اس کا ہاتھ کٹے یہ چادر اس پر صدقہ ہے“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے یہ کام میرے پاس چور لانے سے قبل کیوں نہیں کیا۔“

وضاحت:
➊ حدود کا مقدمہ قاضی یا حاکم تک پہنچنے سے پہلے معاف کیا جا سکتا ہے۔
➋ جرم ثابت ہونے کے بعد متاثرہ شخص بھی معاف نہیں کر سکتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تعافوا الحدود قبل أن تأتوني به فما أتاني من حد فقد وجب» [سنن نسائی: 4885]
ملزمان کو میرے پاس پیش کرنے سے پہلے ہی حدود معاف کر دیا کرو میرے پاس کوئی حد والا مقدمہ آیا تو حد واجب ہوگی۔
➌ البتہ قصاص کے مقدمات اور 337 سے متعلقہ دفعات ضرر وغیرہ قابل راضی نامہ ہیں فیصلہ عدالت کے بعد بھی قانوناً اور شرعاً راضی نامہ کیا جاسکتا ہے۔
➍ حاکم اور قاضی کو چاہیے فوراً حدود شرعیہ کا فیصلہ دے اور نفاذ کرے اس سلسلہ میں بلا وجہ کی تاخیر درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب الحدود / حدیث: 533
تخریج حدیث سنن ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز، رقم: 2595، سنن ابی داؤد، الحدود، باب من سرق من حرز، رقم: 4394، وصححہ ابن الجارود، رقم: 828