حدیث نمبر: 532
عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ قُوِّمَ بِثَلاثَةِ دَرَاهِمَ أَوْ رُبُعِ دِينَارٍ " .نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے تین درہم یا چوتھائی دینار کی مالیت کی ڈھال چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹا۔
وضاحت:
➊ کسی شخص کا مال اس کی حفاظت کی جگہ سے چھپ کر چرا لینے کا نام چوری ہے۔
➋ اصل نصاب ڈھال نہیں کیونکہ ڈھال ہر زمانے میں مختلف قیمت کی ہوتی رہی ہے اصل نصاب ربع دینار ہے اور اتنی یا اس سے زائد مالیت کی اشیاء اگر اٹھالی جائیں تو اٹھانے والے پر حد کا نفاذ ہوگا۔
➌ چوری کی سزا کا ذکر قرآن میں بھی مذکور ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [المائدة: 38]
اور تم چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے اس گناہ کی عبرت ناک سزا ہے جو انھوں نے کیا، اور اللہ غالب، خوب حکمت والا ہے۔
➍ اگر چوری ربع دینار سے کم ہے تو تعزیراً کوئی مناسب سزا قاضی وقت دے سکتا ہے حدود میں کمی پیشی عدالت نہیں کر سکتی البتہ تعزیری سزا میں کمی پیشی ممکن ہے حالات واقعات کے مطابق سزا مختلف ہو سکتی ہے۔
➎ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دینار بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں چوتھائی دینار تقریباً ایک گرام سونا کے برابر ہے، لہذا اتنی مالیت یا اس سے زیادہ کی کوئی چیز چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
➋ اصل نصاب ڈھال نہیں کیونکہ ڈھال ہر زمانے میں مختلف قیمت کی ہوتی رہی ہے اصل نصاب ربع دینار ہے اور اتنی یا اس سے زائد مالیت کی اشیاء اگر اٹھالی جائیں تو اٹھانے والے پر حد کا نفاذ ہوگا۔
➌ چوری کی سزا کا ذکر قرآن میں بھی مذکور ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾ [المائدة: 38]
اور تم چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو، یہ اللہ کی طرف سے اس گناہ کی عبرت ناک سزا ہے جو انھوں نے کیا، اور اللہ غالب، خوب حکمت والا ہے۔
➍ اگر چوری ربع دینار سے کم ہے تو تعزیراً کوئی مناسب سزا قاضی وقت دے سکتا ہے حدود میں کمی پیشی عدالت نہیں کر سکتی البتہ تعزیری سزا میں کمی پیشی ممکن ہے حالات واقعات کے مطابق سزا مختلف ہو سکتی ہے۔
➎ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک دینار بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں چوتھائی دینار تقریباً ایک گرام سونا کے برابر ہے، لہذا اتنی مالیت یا اس سے زیادہ کی کوئی چیز چرانے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔