حدیث نمبر: 52
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ عَمْرَةَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ .
نوید مجید طیب

ہمیں خبر دی سفیان بن عینیہ نے انہوں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آگے حدیث عمرہ کی حدیث کی مانند ہے اس میں بھی چار رکوع کا ذکر ہے۔

وضاحت:
➊ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شمس و قمر اللہ کی نشانیاں ہیں ان کے گرہن کا کسی کی موت یا حیات سے کوئی تعلق نہیں۔
➋ یہ واقعہ 28 شوال 10ھ کا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوئے بعض لوگوں کا نظریہ تھا کہ شاید ابراہیم رضی اللہ عنہ کے غم میں سورج رو رہا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظریے کا رد فرمایا اور تمام روایات میں موت و حیات کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے جتنی احادیث اس باب میں روایت ہوئی ہیں سب ایک ہی واقعے کو مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں۔
➌ سورج یا چاند کو گرہن لگنے کی صورت میں پڑھی جانے والی نماز کو کسوف یا خسوف کہتے ہیں بعض اہل لغت کے نزدیک سورج گرہن کے لیے کسوف اور چاند گرہن کے لیے خسوف کا لفظ استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔
➍ سورج اور چاند اللہ کی دو عظیم نشانیاں ہیں روز قیامت یہ بے نور ہو جائیں گے دنیا میں ان کا گہنا جانا ہمیں فکر آخرت دلاتا ہے لہذا ایسے موقع پر عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے عبادت کرنا، صدقہ و خیرات کرنا، استغفار کرنا مسنون اعمال ہیں۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کسوف کی ہر رکعت میں تین رکوع بھی منقول ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عہد رسالت میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے تھے۔ [صحیح مسلم: 907]
➏ حسب استطاعت ایک رکعت چار رکوع کے ساتھ پڑھنا بھی سنت ہے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع کے ساتھ نماز کسوف کی ایک رکعت پڑھائی۔ [صحیح مسلم: 909]
➐ ضروری نہیں کہ جب تک گرہن رہے قیام کرتے ہی رہنا ہے اتفاقاً جب آپ فارغ ہوئے گرہن ختم ہو گیا تھا گرہن اللہ کے حکم سے ختم ہوتا ہے اگر نماز نہ بھی پڑھی جائے تو بھی گرہن نے ختم ہونا ہی ہے۔
➑ انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے یہ نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں اس لیے پہلی حدیث کی روشنی میں زنا جیسے گناہ سے ڈرایا گیا، دوسری میں جہنم کا تذکرہ ہوا، عورتوں کی نافرمانی جیسا گناہ بیان ہوا، عذاب قبر سے پناہ کا حکم ہوا، ذکر الہی، نماز صدقات اور نیک کام کا حکم فرمایا۔
➒ دور حاضر میں جب گرہن لگتا ہے نمازوں کی طرف لپکنے کی بجائے مسلمان معمولات زندگی میں مشغول رہتے ہیں۔ بعض دقیانوس اس منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ العیاذ باللہ!
➓ صلاۃ کسوف کے موقع پر (الصلاة جامعة الصلاة جامعة) کے الفاظ کے ساتھ منادی کرنا مسنون ہے۔ [صحیح بخاری: 1066، صحیح مسلم: 910]
⓫ بعض لوگ عام نماز کی طرح کسوف میں بھی ایک ہی رکوع کے قائل ہیں۔ یہ فہم صریح احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔
⓬ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اسی دوران جنت و جہنم دکھائی یہ علامات نبوت میں سے ہے۔
⓭ نماز میں معمولی حرکات و سکنات نماز کو باطل نہیں کرتیں۔
⓮ جنت کی نعمتیں دائمی اور ابدی ہیں۔
⓯ عورتوں پر خاوندوں کی شکر گزاری فرض ہے۔
⓰ عذاب قبر برحق ہے اور یہ اہل کتاب کا بھی عقیدہ تھا۔
⓱ عذاب قبر سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور اس سلسلہ میں وارد مسنون دعاؤں کو اپنی زندگی کے معمولات میں شامل کرنا چاہیے۔
⓲ عوام میں موجود جاہلانہ، ہندوانہ اور مشرکانہ عقائد و نظریات کی سختی سے تردید کرنا اہل علم کا فریضہ ہے۔
⓳ نماز کسوف میں قراءت بالجہر ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في صلاة الكسوف / حدیث: 52
تخریج حدیث صحیح مسلم، الكسوف، باب صلاة الكسوف، رقم: 901۔