حدیث نمبر: 521
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .
نوید مجید طیب

سیدنا زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بہترین گواہ نہ بتاؤں؟ وہ جو طلب کرنے سے پہلے از خود شہادت دے دے۔“

وضاحت:
➊ امام ابو داؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ صاحب حق کو علم نہ ہو کہ اس کا گواہ کون ہے، تو اس صورت میں کسی کا بغیر طلبی کے گواہ بننا۔ [سنن ابي داود: 3596] بعض دفعہ وقوعہ کے گواہان نامزد نہیں ہوتے تو ایک آدمی خود اپنی گواہی پیش کرتا ہے ﴿وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ﴾ [البقرة: 283] پر عمل کر کے اپنا فریضہ پورا کرتا ہے یقیناً وہ بہترین گواہ ہے جس نے مجبور اور سادہ لوگوں کی مدد کی اور قاضی کے لیے حق و انصاف میں معاون بنا یہ مدح سچے گواہ کی بیان کی گئی ہے۔
➋ جھوٹے گواہ جو بڑھ چڑھ کر گواہیاں دیتے ہیں کہ مدعی ست اور گواہ چست ان کی حدیث میں مذمت بیان کی گئی ہے علامات قیامت میں سے ہے کہ ایسے لوگ آئیں گے جو طلب کیے بغیر گواہی دیں گے اور قسمیں کھائیں گے حالانکہ اُن سے قسم نہیں طلب کی جائے گی۔ [بخاری: 2651]
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 521
تخریج حدیث صحیح مسلم، الأقضية، باب بیان خیر الشھود رقم: 1719