حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ " قَالَ : عِنْدِي آخَرُ ؟ قَالَ : " أَنْتَ أَعْلَمُ " . قَالَ سَعِيدٌ : ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ وَلَدُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي ، تَقُولُ زَوْجَتُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي ، يَقُولُ خَادِمُكَ : أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے پاس ایک دینار ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اوپر خرچ کر“ تو وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے غلام پر خرچ کر“ کہنے لگا ایک اور بھی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے بارے میں (پھر) بہتر جاننا ہے۔“

وضاحت:
➊ اسلام حسن سلوک کا حکم دیتا ہے غلام یا ملازم کو حقیر ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے، اپنے کھانے میں سے کچھ اُن کو بھی دینے سے مالک کی عزت بڑھتی ہے۔
➋ ملازم تحفہ سے مانوس ہو کر مالک کا مال چوری نہیں کرتے، پسے ہوئے طبقے کے جذبات کا اسلام خیال رکھتا ہے۔
➌ انسان کی آمدن میں سے اس کی جان کا سب سے پہلا حق ہے بعد ازاں بیوی بچوں اور خدام کا ہے۔
➍ دنیا میں بہت سارے بخیل ایسے ہیں جو زندگی فقیروں جیسی گزار رہے ہیں نہ خود پر خرچ کرتے ہیں نہ اہل وعیال پر لیکن روزِ قیامت ان کو حساب مالداروں جیسا دینا ہو گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب إطعام الخادم مما يأكل منه مالكه / حدیث: 520
تخریج حدیث سنن ابی داؤد، الزكاة، باب فى صلة الرحم، رقم: 1691، سنن نسائى، الزكاة، باب تفسير ذلك، رقم: 2535 وقال الالبانی: حسن صحيح، مسند الحميدى: 495/2، رقم: 1176