السنن المأثورة
باب ما جاء في صلاة الكسوف— نماز کسوف کا بیان
باب ما جاء في صلاة الكسوف باب: نماز کسوف کا بیان
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَةَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَتْنِي يَهُودِيَّةٌ , فَقَالَتْ : أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَذَكَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ كَلِمَةً إِلَيَّ , كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ فِيهَا شَيْءٌ , قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي مَرْكَبٍ لَهُ , فَخَرَجْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ بَيْنَ الْحُجَرِ , فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا , حَتَّى قَامَ فِي مُصَلاهُ , فَكَبَّرَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا , ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا , وَهُوَ دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ , ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَهُ , فَكَانَتْ صَلاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ , قَالَ : فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا لَنُعَذَّبُ فِي قُبُورِنَا ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ , كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " .ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس یہودی عورت آئی کہنے لگی اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے جس کا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ایسا فرمایا گویا ابھی تک اس سے متعلق آپ کے پاس وحی نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سواری پر کسی کام کے لیے نکلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں سے نکلی کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے آرہے تھے حتی کہ جائے نماز پر پہنچ گئے تکبیر کہی اور لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا پھر اٹھ کر لمبا قیام کیا لیکن پہلے سے کم تھا پھر لمبارکوع کیا جو پہلے سے کم تھا پھر رکوع سے اٹھے لمبا سجدہ کیا پھر دوسری رکعت ایسے ہی پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل تھی اس کے بعد میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے پناہ مانگ رہے تھے میں نے کہا کیا ہم عذاب قبر دیے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤ گے۔“