حدیث نمبر: 510
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلا يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ فَقَالَ : " لا " ، فَقُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : " لا " ، ثُمَّ قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي امْرَأَتِكَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " . لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .
نوید مجید طیب

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے مجھے سخت تکالیف تھی میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میری بیماری آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب مال ہوں، میری وارث میری ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کیا: نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہائی ٹھیک ہے البتہ یہ بھی بہت زیادہ۔ اگر تو ورثا کو اغنیاء چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو کنگال چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں بے شک تو جو بھی رضا الہی کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر پائے گا حتی کہ اس لقمہ پر بھی جو تو بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ہرگز پیچھے نہیں رہے گا تو جو بھی صالح عمل کرے گا اس پر تیرا رتبہ، درجہ بلند ہو گا امید ہے تو زندہ رہے حتی کہ تجھ سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کریں اور بعض کو نقصان ہو۔“ (پھر دعا فرمائی) اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت برقرار رکھ ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس کیا جو مکہ میں فوت ہوئے۔

وضاحت:
➊ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سابقون الاولون میں سے ہیں، اسلام اور اہل اسلام کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں عشرہ مبشرہ میں شمار کئے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ستر سال عمر پائی۔ پچپن ہجری میں فوت ہوئے۔
➋ بیمار کی تیمار داری سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
➌ ملکیتی مال کی وصیت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
➍ انسان کا ترکہ قرض کی ادائیگی اور وصیت کی تکمیل کے بعد تقسیم ہوگا۔
➎ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں مستحب یہ ہے کہ ثلث سے بھی کم مال کی وصیت فرمائی جائے۔
➏ مہاجر کے لیے اس جگہ کو دوبارہ وطن بنانا جہاں سے ہجرت کر چکا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے التمہید میں نقل کیا ہے کہ مہاجرین کو صرف تین ایام مکہ میں رہنے کی اجازت تھی مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف حج و عمرہ کے لیے آتے تھے کسی نے دوبارہ مکہ کو وطن نہیں بنایا۔
➐ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ڈیوٹی لگائی کہ اگر سعد رضی اللہ عنہ فوت ہو جائیں تو ان کو مکہ دفن نہ کرنا۔
➑ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مکہ میں فوت ہوئے جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ لیکن یہ وہ لوگ تھے جو حج یا عمرہ کے لیے وہاں گئے تھے اتفاقاً موت آگئی، انہوں نے مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار نہ کی تھی۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 510
تخریج حدیث صحیح بخاری، الجنائز، باب رثى النبي سعد بن خولة، رقم: 1295