السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِيَ مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ؟ قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : فَالشَّطْرُ ؟ قَالَ : " لا " ، قُلْتُ : فَالثُّلُثُ ؟ قَالَ : " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتَرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي ؟ قَالَ : " إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ فيَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ " . يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ .عامر بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے بتایا کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر بیمار پڑ گئے اور موت کے قریب پہنچ گئے میری عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو ثلث صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا نصف؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ تو میں نے کہا: ایک ثلث؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثلث بہت ہے، اگر تم ورثاء کو اغنیاء چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ دراز کریں تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تم کو ثواب ملے گا حتی کہ جو لقمہ بیوی کے منہ میں رکھو اس پر بھی اجر ہے“ میں نے عرض کی: کہ (مکہ میں فوت ہو کر) کیا اللہ کے رسول میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد تم زندہ رہے تو جو بھی عمل رضا الہی کے لیے کرو گے ان کے ذریعہ آپ کا درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے تم میرے بعد زندہ رہو گے تم سے ایک قوم کو نفع دوسری کو نقصان ہو گا اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دینا قابل افسوس سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔