السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 511
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ يُؤْمِنُ بِالْوَصِيَّةِ وَلَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَتَانِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وصیت کو حق جانتا ہے اس کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس قابل وصیت مال ہو کہ وہ دو راتیں بھی گزارے مگر اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“