السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 508
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ هِنْدَ أُمَّ مُعَاوِيَةَ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .نوید مجید طیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو کہنے لگیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں وہ بقدر ضرورت خرچہ نہیں دیتے مگر پوشیدہ طور پر اس کا مال لینا پڑتا ہے جو وہ نہیں جانتا تو اس بارے کیا کوئی گناہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معروف طریقے سے اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیرے بیٹے کے لیے کافی ہو۔“
وضاحت:
➊ بخیل آدمی کی بیوی کو گزران کے لیے صرف اتنا مال خاوند کا لینا چاہیے جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔
➋ اس سے ثابت ہوا اولاد کا خرچ باپ کے ذمے ہے ہاں اگر ماں مالدار ہو اور باپ فقیر ہو تو اولاد کو خوراک مہیا کرنا ماں کی بھی ذمہ داری ہے۔
➌ اگر باپ گم ہو جائے یا معذور ہو تو دادے کی ذمہ داری ہے کہ پوتوں کو نان نفقہ دے اگر دادا صاحب مال ہے تو ذمہ داری پوری کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی غیر حاضری میں فیصلہ صادر کیا اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا۔ «باب القضاء على الغائب» یک طرفہ فیصلہ صادر کرنے کا بیان امام نسائی رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے حاکم کا کسی شخص کی غیر موجودگی میں فیصلہ کرنا جب وہ اسے پہچانتا ہو کہ واقع ہی وہ شخص ایسا ہے یعنی اس صورت میں یک طرفہ فیصلہ حالات واقعات کے تناظر میں ہوسکتا ہے۔
➍ غیبت عام طور پر حرام ہے لیکن اس کے کچھ مستثنات بھی ہیں مثلاً: 1 شرعی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
2 منکر کو تبدیل کرنے کے لیے پولیس کو شکایت۔
3 مفتی یا عالم سے فتوی کی غرض سے حقیقت حال بیان کرنا۔
4 مظلوم کا با اختیار اتھارٹی کے سامنے حقیقت بتانا۔
5 مسلمانوں کی خیر خواہی مطلوب ہو کہ شریر کے شر سے محفوظ ہو جائیں جیسے بدعتی، فاسق وغیرہ۔
6 رواۃ حدیث پر جرح بقدر ضرورت۔
7 مذکورہ شخص کا لقب ہو جیسے اندھا، گورا وغیرہ۔
➎ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر محرم کی آواز بقدر ضرورت سنی جاسکتی ہے۔
➏ بعض اوقات قاضی اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر بغیر گواہ طلب کیے فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ نادر حالات ہیں عام قاعدہ نہیں۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ شہادت ظاہری پر انحصار کرے گا۔
➐ بعض نے لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کا حق ادا نہیں کر رہا تو اس کے امانتی مال سے اپنا حق لے سکتا ہے۔
➑ عورت کا ذخیرہ اندوزی یا فضول خرچی کے لیے خاوند کا مال بلا اجازت لینا حرام ہے۔
«المرأة مسئولة عن بيت زوجها ....»
➋ اس سے ثابت ہوا اولاد کا خرچ باپ کے ذمے ہے ہاں اگر ماں مالدار ہو اور باپ فقیر ہو تو اولاد کو خوراک مہیا کرنا ماں کی بھی ذمہ داری ہے۔
➌ اگر باپ گم ہو جائے یا معذور ہو تو دادے کی ذمہ داری ہے کہ پوتوں کو نان نفقہ دے اگر دادا صاحب مال ہے تو ذمہ داری پوری کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی غیر حاضری میں فیصلہ صادر کیا اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا۔ «باب القضاء على الغائب» یک طرفہ فیصلہ صادر کرنے کا بیان امام نسائی رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے حاکم کا کسی شخص کی غیر موجودگی میں فیصلہ کرنا جب وہ اسے پہچانتا ہو کہ واقع ہی وہ شخص ایسا ہے یعنی اس صورت میں یک طرفہ فیصلہ حالات واقعات کے تناظر میں ہوسکتا ہے۔
➍ غیبت عام طور پر حرام ہے لیکن اس کے کچھ مستثنات بھی ہیں مثلاً: 1 شرعی ضرورت جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔
2 منکر کو تبدیل کرنے کے لیے پولیس کو شکایت۔
3 مفتی یا عالم سے فتوی کی غرض سے حقیقت حال بیان کرنا۔
4 مظلوم کا با اختیار اتھارٹی کے سامنے حقیقت بتانا۔
5 مسلمانوں کی خیر خواہی مطلوب ہو کہ شریر کے شر سے محفوظ ہو جائیں جیسے بدعتی، فاسق وغیرہ۔
6 رواۃ حدیث پر جرح بقدر ضرورت۔
7 مذکورہ شخص کا لقب ہو جیسے اندھا، گورا وغیرہ۔
➎ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر محرم کی آواز بقدر ضرورت سنی جاسکتی ہے۔
➏ بعض اوقات قاضی اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر بغیر گواہ طلب کیے فیصلہ دے سکتا ہے لیکن یہ نادر حالات ہیں عام قاعدہ نہیں۔ عام قاعدہ یہی ہے کہ شہادت ظاہری پر انحصار کرے گا۔
➐ بعض نے لکھا ہے کہ اگر کوئی کسی کا حق ادا نہیں کر رہا تو اس کے امانتی مال سے اپنا حق لے سکتا ہے۔
➑ عورت کا ذخیرہ اندوزی یا فضول خرچی کے لیے خاوند کا مال بلا اجازت لینا حرام ہے۔
«المرأة مسئولة عن بيت زوجها ....»