حدیث نمبر: 507
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " .
نوید مجید طیب

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں اتنا خرچہ نہیں دیتے جو میری اولاد کو کافی ہو اور میرے پاس وہی ہوتا ہے جو میں ان کی اجازت کے بغیر لے لوں۔ کیا مجھ پر اس کا گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اتنا دستور کے مطابق اس کے مال سے لے لیا کرو جو تجھے اور تیری اولاد کو کافی ہو۔“

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 507
تخریج حدیث صحیح بخارى، البيوع، باب من أجرى امر الأمصار .... الخ، رقم: 2211، صحیح مسلم، الاقضية باب قضية هند، رقم: 1714