السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 506
عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا فَاسْتَجْمَعَهَا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ : " احْبِسِ الأَصْلَ ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَذَا يَدُلُّ عَلَى إِجَازَةِ حَبْسِ الْمُشَاعِ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَلَوْ لَمْ يَجُزْ لَنَا هَذَا لَدَّلَّنَا عَلَيْهِ حَدِيثُ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِهِ عُمَرَ أَنْ يَحْبِسَ مَالَهُ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى مَا أَمَرَهُ أَنْ يَحْبِسَهُ عَلَيْهِ لَمَّا سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؛ لأَنَّ خَيْبَرَ لَمْ تُقْسَمْ إِلا فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَمَّا مَا كَانَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَإِنَّمَا هُوَ قِسْمَةُ جَمْعٍ ؛ لأَنَّهُ جَعَلَ كُلَّ مِائَةِ سَهْمٍ كَسَهْمٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ جَزَّأَ غَلاتِهَا عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقْسِمِ الأَرْضَ .نوید مجید طیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خیبر میں (100) حصے کے مالک بنے جنہیں انہوں نے خریدا نشاندہی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول مجھے ایسا مال حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، میرا ارادہ ہے کہ اُسے صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اصل زمین روک لو اس کا پھل صدقہ کر دو۔“
وضاحت:
➊ ایک روایت میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس 100 غلام تھے میں نے ان کے عوض خیبر کے علاقے میں سو حصے زمین خرید لی۔ [نسائی: 3604]
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ فروخت کی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے اور اسے فقیروں میں رشتہ داروں میں غلام آزاد کرنے میں، جہاد میں مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے اور اس کا نگران معروف طریقے سے کھائے، دوست کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین وقف کی آگے اس کا پھل صدقہ خیرات میں صرف ہوتا رہا۔ [ترمذی: 1375]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کرنا چاہا تو انہوں نے تجویز دی کہ ہم زمین کے معاملات دیکھ بھال میں آپ لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں آدھی پیداوار پر ہمیں یہاں رہنے دیا جائے تو معاہدہ ہوا کہ جب تک مسلمان چاہیں گے تمہیں اس شرط پر باقی رکھیں گے اور جب چاہیں گے تمہیں جلا وطن کریں گے پھر عہد عمر رضی اللہ عنہ میں یہودیوں کی خباثتیں اور شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ان سرکشوں کو عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر سے جلا وطن کیا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ طے کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے انہیں خیبر سے نکال دیں گے، لہذا جس نے ان سے کچھ لینا ہو وصول کر لے میں یہودیوں کو نکالنے لگا ہوں، چنانچہ انہوں نے اس کے بعد انہیں خیبر سے نکال دیا۔ [ابی داؤد: 3007]
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ فروخت کی جائے، نہ ہبہ کی جائے اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے اور اسے فقیروں میں رشتہ داروں میں غلام آزاد کرنے میں، جہاد میں مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے اور اس کا نگران معروف طریقے سے کھائے، دوست کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین وقف کی آگے اس کا پھل صدقہ خیرات میں صرف ہوتا رہا۔ [ترمذی: 1375]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو جلا وطن کرنا چاہا تو انہوں نے تجویز دی کہ ہم زمین کے معاملات دیکھ بھال میں آپ لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں آدھی پیداوار پر ہمیں یہاں رہنے دیا جائے تو معاہدہ ہوا کہ جب تک مسلمان چاہیں گے تمہیں اس شرط پر باقی رکھیں گے اور جب چاہیں گے تمہیں جلا وطن کریں گے پھر عہد عمر رضی اللہ عنہ میں یہودیوں کی خباثتیں اور شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ان سرکشوں کو عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر سے جلا وطن کیا۔
چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ طے کیا تھا کہ جب ہم چاہیں گے انہیں خیبر سے نکال دیں گے، لہذا جس نے ان سے کچھ لینا ہو وصول کر لے میں یہودیوں کو نکالنے لگا ہوں، چنانچہ انہوں نے اس کے بعد انہیں خیبر سے نکال دیا۔ [ابی داؤد: 3007]