السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 505
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أُمِّي افْتَلَتَتْ نَفْسَهَا وَأَرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " . فَتَصَدَّقَ عَنْهَا .نوید مجید طیب
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے میرا خیال ہے اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ملے گا۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان وفات پا جاتا ہے تو تین اعمال کے سوا اس کا سلسلہ عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ [مسلم: 1631]
➋ ایصال ثواب کے غیر شرعی طریقوں کا اپنانا اور خلاف سنت راستوں پر چلنا دنیاوی و اخروی خسارے کا باعث ہے۔
➌ مذکورہ حدیث میں بھی ایصالِ ثواب کا ایک شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ فوت شدہ کی طرف سے صدقہ کیا جا سکتا ہے۔
➋ ایصال ثواب کے غیر شرعی طریقوں کا اپنانا اور خلاف سنت راستوں پر چلنا دنیاوی و اخروی خسارے کا باعث ہے۔
➌ مذکورہ حدیث میں بھی ایصالِ ثواب کا ایک شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ فوت شدہ کی طرف سے صدقہ کیا جا سکتا ہے۔