السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ ، فَقِيلَ لَهَا : أَوْصِي ، فَقَالَتْ : فِيمَ أُوصِي ؟ إِنَّ الْمَالَ مَالُ سَعْدٍ ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أتَصَدَّقَ عَنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ .سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ پر گئے ہوئے تھے، مدینہ میں ان کی والدہ کی وفات کا وقت آ گیا تو لوگوں نے اسے کہا: اپنے مال کی وصیت کر دیں تو وہ کہنے لگی میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی واپسی سے قبل ہی وہ وفات پا گئیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جب واپس آئے تو انہیں ماجرہ بتایا گیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر میں والدہ کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کا فائدہ والدہ کو ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں فلاں باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے۔