السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 503
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ عَلَى عَهْدِ قُرَيْشٍ ، إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : إِنَّ أُمِّيَ قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، صِلِي أُمَّكِ " .نوید مجید طیب
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے جب قریش کی مکہ میں حکومت تھی اس دوران میری مشرکہ والدہ مجھے ملنے آئیں جب معاہدہ حدیبیہ چل رہا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا: میری ماں مشرکہ ہے میری ملاقات کی خواہش مند ہے کیا میں ملاقات کر سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اپنی ماں سے ملاقات کر لو۔“
وضاحت:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکین کو نجس سمجھتے تھے چاہے سگی ماں یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔
➋ اسلام نے والدین سے صلہ رحمی کا حکم دیا چاہے کافر ہی ہوں۔
➌ اس خاتون کا نام قبیلہ بنت عبد العزی تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے زمانہ جاہلیت میں ہی طلاق دے دی تھی یہ اپنے بیٹے حارث بن مدرکہ کے ہمراہ میوے اور گھی اپنی بیٹی کے لیے لائی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾ [الممتحنة: 8]
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
➍ کافر سے دلی محبت نہیں رکھی جا سکتی نہ باپ سے نہ اولاد سے لیکن حسن سلوک کے ساتھ عام کافر سے بھی پیش آنے کی اسلام ترغیب دیتا ہے تا کہ مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا انہیں موقع میسر آئے اور اللہ تعالیٰ انہیں راہ ہدایت سے نوازیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا انہوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاری: 5981]
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے غیر محارب رواداری کا مظاہرہ کرنے والے کفار سے اچھا برتاؤ کرنا شریعت کا تقاضا ہے۔
➋ اسلام نے والدین سے صلہ رحمی کا حکم دیا چاہے کافر ہی ہوں۔
➌ اس خاتون کا نام قبیلہ بنت عبد العزی تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے زمانہ جاہلیت میں ہی طلاق دے دی تھی یہ اپنے بیٹے حارث بن مدرکہ کے ہمراہ میوے اور گھی اپنی بیٹی کے لیے لائی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ لَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْا اِلَيْهِمْ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾ [الممتحنة: 8]
اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
➍ کافر سے دلی محبت نہیں رکھی جا سکتی نہ باپ سے نہ اولاد سے لیکن حسن سلوک کے ساتھ عام کافر سے بھی پیش آنے کی اسلام ترغیب دیتا ہے تا کہ مسلمانوں کو قریب سے دیکھنے کا انہیں موقع میسر آئے اور اللہ تعالیٰ انہیں راہ ہدایت سے نوازیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی حلہ عطا فرمایا انہوں نے وہ اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں رہتا تھا۔ [بخاری: 5981]
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے غیر محارب رواداری کا مظاہرہ کرنے والے کفار سے اچھا برتاؤ کرنا شریعت کا تقاضا ہے۔