السنن المأثورة
باب ما جاء في الصلاة في السفر— سفر میں نماز کا بیان
باب ما جاء في الصلاة في السفر باب: سفر میں نماز کا بیان
حدیث نمبر: 4
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ : عَلَى يَدَيْهِ , وَجَبْهَتِهِ , وَأَنْفِهِ ، وَرُكْبَتَيْهِ , وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ , وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " . قَالَ سُفْيَانُ : وَأَرَانَا ابْنُ طَاوُسٍ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ , ثُمَّ مَرَّ بِهَا عَلَى أَنْفِهِ , حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ أَنْفِهِ , فَقَالَ : كَانَ أَبِي يَعُدُّ هَذَا وَاحِدًا .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں، اپنے دونوں ہاتھوں، پیشانی، ناک، دونوں گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کے اطراف پر اور آپ کو منع کیا گیا کہ نماز کی حالت میں بال اور کپڑے سمیٹیں۔ راوی حدیث سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن طاؤس رحمہ اللہ نے عملاً اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر ناک کی نوک تک لے جا کر ہمیں دکھایا اور فرمایا : میرے والد طاؤس رحمہ اللہ یہ پورا حصہ ایک عضو شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہی کام کرنے کے پابند تھے جو اللہ کا حکم ہوتا، اس سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث بھی وحی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا جبکہ یہ حکم قرآن میں موجود نہیں تو ثابت ہوا بعض اللہ کے حکم بذریعہ حدیث معلوم ہوتے ہیں۔
➋ حالت نماز میں بے جا طور پر ہاتھوں کو حرکت دینے، کبھی بال درست کرنے، کبھی کپڑے سمیٹنے یا کوئی بھی ایسی حرکت جو عمل نماز کے منافی ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➌ بالوں کے جوڑے بنا کر، آستین چڑھا کر داڑھی کو گرہ لگا کر نماز پڑھنا اس حدیث کی روشنی میں منع ہے۔
➍ نماز کھیل تماشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے مؤدب انداز سے عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ہجرت مدینہ سے تین سال قبل پیدا ہوئے ترجمان القرآن اور حبر الامہ ان کا لقب ہے آپ نے 68ھ طائف میں وفات پائی آپ کی روایات کی تعداد قریباً سولہ صد ساٹھ ہے۔
➋ حالت نماز میں بے جا طور پر ہاتھوں کو حرکت دینے، کبھی بال درست کرنے، کبھی کپڑے سمیٹنے یا کوئی بھی ایسی حرکت جو عمل نماز کے منافی ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
➌ بالوں کے جوڑے بنا کر، آستین چڑھا کر داڑھی کو گرہ لگا کر نماز پڑھنا اس حدیث کی روشنی میں منع ہے۔
➍ نماز کھیل تماشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے مؤدب انداز سے عاجزی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
➎ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں ہجرت مدینہ سے تین سال قبل پیدا ہوئے ترجمان القرآن اور حبر الامہ ان کا لقب ہے آپ نے 68ھ طائف میں وفات پائی آپ کی روایات کی تعداد قریباً سولہ صد ساٹھ ہے۔