السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّهُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أذْبَحْ ، فَقَالَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ " ، فَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ فَقَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منی میں حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کے لیے رکے تاکہ سوال کر لیں تو ایک آدمی آیا کہنے لگا پتہ نہیں چلا میں نے سر قربانی کرنے سے پہلے مونڈ لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی حرج نہیں قربانی کر لے“ ایک دوسرا آدمی آیا کہنے لگا اے رسول اللہ ﷺ مجھے پتہ نہیں چلا کنکریاں مارنے سے پہلے میں نے قربانی کر ڈالی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں کنکریاں اب مار لے“ راوی کہتے ہیں کہ جو بھی تقدیم و تاخیر کا سوال (دس ذوالحجہ کو) ہوا آپ ﷺ نے فرمایا : «افعل ولا حرج» (اب کر لے کوئی حرج نہیں)۔
➋ 10 ذی الحجہ میں حاجی کے بالترتیب کرنے کے کام اس طرح ہیں: (1) کنکریاں مارنا (2) قربانی کرنا (3) بال کٹوانا (4) طواف کرنا (5) سعی۔ حج تمتع کرنے والے پر اور اگر حج مفرد اور قارن والے نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی تو وہ بھی سعی کرے گا، ان پانچ کاموں میں اگر ترتیب آگے پیچھے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
➌ اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو صاحب علم سے راہ نمائی لے لینی چاہیے۔