السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ " . قَالَ نَافِعٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا : لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَى إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا : «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”اے اللہ میں حاضر ہو، حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مزید یہ الفاظ بھی کہتے تھے : «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير فى يديك والرغبٰي اليك والعمل» ”میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرے سامنے ہی بغرض سعادت حاضر ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہی بھلائی ہے، تیری ہی طرف لگن اور عمل ہے۔“