حدیث نمبر: 483
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ خُزَاعَةَ حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مَكَّةَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " يَا أَبَا حَفْصٍ ، إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ فَلا تُزَاحِمْ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّكَ تُؤْذِي الضَّعِيفَ وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْ وَإِلا فَكَبِّرْ وَامْضِ " . قَالَ سُفْيَانُ : هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ كَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْهَا مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ .
نوید مجید طیب

ابو یعفور رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے خزاعہ قبیلہ کے ایک شخص کو جو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ کا امیر تھا کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابو حفص! تو طاقتور ہے حجر اسود پر زور نہ دینا تو ضعیف کو تکلیف دے گا ہاں جب موقع مل جائے استلام کر لے اگر نہیں تو تکبیر کہہ کر گزر جانا۔“ راوی سفیان بن عینہ اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ خزاعی عبدالرحمن بن نافع بن عبد الحارث رحمہ اللہ تھا حجاج رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اسے ذمہ داری سونپ گیا تھا۔

وضاحت:
➊ عبادت کا مقصود لوگوں کو تکلیف دینا نہیں۔
➋ حجر اسود کا بوسہ سنت ہے اور لوگوں کو تکلیف دینا حرام ہے، ایک حرام کام کر کے سنت پر عمل کرنا بے وقوفی ہے یعنی تکالیف پہنچا کر بوسہ دینا جس کے بغیر بھی طواف مکمل ہے ثواب میں کمی نہیں تو لوگوں کو تکلیف پہنچا کر دھکے دے کر حرام کام کیوں کرنا ہے کاش یہ حدیث ان لوگوں تک پہنچ جائے جن کے ایک دھکے سے دوسرے لوگ تنکے کی طرح بہہ جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 483
تخریج حدیث مسند احمد: 321/1، رقم: 190 وقال الارنوؤط: حديث حسن، رجله ثقات ، السنن الكبرى للبيهقي : 70/5 وقال الهيثمى رواة احمد وفيه راو لم يسم مجمع الزوائد : 241/3 ۔