السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 482
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے (حج کے موقع پر) فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں پر رحم فرما“ تو جنہوں نے بال کٹوائے تھے انہوں نے عرض کی بال کٹوانے والوں پر بھی رحم کی دعا فرمائیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے پھر حلق (ٹنڈ) کرانے والوں کے لیے دعا کی، پھر انہوں نے درخواست دُہرائی تو رسول اللہ ﷺ نے (تیسری دفعہ) فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“
وضاحت:
اس سے ثابت ہوا حج یا عمرہ میں ٹنڈ کرانا صرف بال کٹوانے سے زیادہ افضل ہے اور ان کے لیے دو دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اگرچہ صرف بال کٹوا لینا بھی جائز عمل ہے، لیکن بال پورے سر کے برابر کٹوائے جائیں۔