حدیث نمبر: 478
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْهَا " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " ، فِي الثَّانِيَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ .
نوید مجید طیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ پیدل لے جاتے دیکھا تو فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ تو وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول! یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ (پھر نہیں ہوا تو) دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا: ”افسوس تجھ پر سوار ہو جا۔“

وضاحت:
➊ زمانہ جہالت میں مذہبی رسوم کے جانور سائبہ وغیرہ مقدس جانے جاتے تھے لوگ ان پر سواری نہ کرتے تھے وہ آدمی بھی سمجھ رہا تھا کہ شاید اس پر سواری جائز نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ کر سوار کرایا تاکہ غلط تصور کا قلع قمع ہو سکے، جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سختی سے بھی حکم دیتے رہے ہیں خصوصاً جب معاملہ توحید سے متعلقہ ہوتا یا حدود اللہ کا معاملہ ہوتا۔
➋ قربانی کے لیے مختص ہو جانے والے جانور سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 478
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب رکوب البدن، رقم: 1689، صحیح مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ ..... الخ، رقم: 1322۔