السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : لا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ : " قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " .محمد بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے (جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا) سنا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ حج تمتع کے مسئلہ پر گفتگو کر رہے تھے تو سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا تمتع وہی کرتا ہے جس کو شریعت سے آگاہی نہیں تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے بہت بری بات ہے جو تم نے کہی ہے“ انہوں نے کہا بے شک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج تمتع تو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور ہم نے آپ کے ساتھ حج تمتع کیا۔“
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قربانی ساتھ لائے تھے جو صحابہ رضی اللہ عنہم قربانی نہیں لائے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکماً حج تمتع کرنے کا فرمایا یہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی مراد ہے۔
➌ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بعض انتظامی آرڈر مصلحت کی خاطر پاس کرتے تھے جو وقتی انتظامی نوعیت کا حکم ہوتا تھا حج تمتع سے منع کرنا بھی انتظامی حکم تھا عرب کے لوگ حج کے ساتھ ہی عمرہ کر جاتے پھر پورا سال نہ آتے کہ عمرہ ساتھ ہی کر آئے ہیں اس لیے انہوں نے حج تمتع سے منع کیا تاکہ لوگ بیت اللہ کی طرف بار بار اور قصداً آئیں سارا سال بیت اللہ میں رونق بحال رہے۔
➍ کرونا کی وبا کے باعث سعودی حکومت نے دیگر ممالک کو حج سے روک دیا تو اس سے شریعت نہ بدلی بلکہ یہ انتظامی حکم تھا اس طرح امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حکم دیا جنہوں نے اس حکم کو مستقل حکم سمجھا ان پر صحابہ نے خود رد کیا جیسے اس حدیث میں بھی ہے اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج تمتع کے لیے احرام باندھا تو ان سے کہا گیا عمر رضی اللہ عنہ نے تو حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «أ أمر أبى يتبع أم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم» میرے والد صاحب کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانی جائے گی؟ [سنن ترمذی: 824]