حدیث نمبر: 479
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ " ، قَالَتْ : فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ .
نوید مجید طیب

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی بیوی فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں (پیدل طواف مشکل ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں سے ہٹ کر سواری پر سوار ہو کر طواف کر لیں“ (تاکہ سواری کی لوگوں کو تکلیف نہ ہو) کہتی ہیں میں نے سواری پر طواف کیا اس وقت رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔

وضاحت:
➊ بیمار سواری و الیکٹرک وہیل چیئر وغیرہ پر طواف کر سکتا ہے نمازیوں سے علیحدہ پیچھے طواف کرے تاکہ ان کو مشقت نہ ہو۔
➋ دوران نماز بھی بوجہ مجبوری طواف کیا جا سکتا ہے جیسے جہاز، گاڑی نکل جانے کا خطرہ وغیرہ ہو۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جماعت کروا رہے تھے، عورتوں کا باجماعت نماز پڑھنا واجب نہیں اس لیے وہ شریک نہ ہوئیں۔ (واللہ اعلم)
➍ بعض شرعی احکام مخصوص حالات سے متعلق ہوتے ہیں ان کو عام حالات پر منطبق کرنا درست نہیں ہے۔
➎ صحت مند اور تندرست آدمی کو پیدل ہی طواف کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 479
تخریج حدیث صحیح بخاری، الصلاۃ، باب ادخال البعیر فی المسجد للعلۃ، رقم: 464، صحیح مسلم، الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ، رقم: 1276۔