حدیث نمبر: 476
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَا الْمُزَنِيُّ ، وَإِنَّمَا هُوَ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا ، قَالَ : مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ : رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الأَرْكَانُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا ، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ : فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا : وَأَمَّا الإِهْلالُ : فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَبْعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ " .
نوید مجید طیب

عبید بن جریج رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا اے ابو عبدالرحمن! میں آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی نہیں کرتا، انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج رحمہ اللہ وہ کون سے ہیں؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا میں (دوران طواف) دیکھتا ہوں کہ آپ دو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی رکن کو نہیں چھوتے، اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ سبتی جوتے پہنتے ہیں، اور آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ جب مکہ میں تھے لوگوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارا اور آپ نے آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھا یا تلبیہ بلند نہیں کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا جو مسئلہ ارکان سے متعلق ہے تو میں نے صرف دو یمنی ارکان کو ہی رسول اللہ ﷺ کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے، اور جہاں تک جوتوں کا تعلق تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے جوتے پہنتے دیکھا ہے جس پر بال نہیں تھے ان ہی میں آپ ﷺ وضوء فرما لیتے تھے تو مجھے بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند ہیں، جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ اس رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی رنگ سے (بال یا کپڑا بطور خوشبو) رنگنا پسند کرتا ہوں، رہا مسئلہ احرام باندھنے کا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ (منی کی جانب) چل پڑتی۔

وضاحت:
➊ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین دلیل اور تصویر پیش کی۔
➋ علماء نے لکھا ہے اگر زردرنگ زعفران کا نہیں تو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسے خصوصی شعار زردرنگ جو کفر کی خاص علامت بن جائیں ان سے اجتناب ضروری ہے۔
➌ شرعی مسائل کا اہل علم سے استفسار کرنا چاہیے۔
➍ ہر عمل کی بنیاد وحی الہی ہونی چاہیے۔
➎ مسئلہ کو کتاب و سنت کے دلائل سے بیان کرنا اہل علم اور اسلاف کا طرہ امتیاز رہا ہے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 476
تخریج حدیث صحیح بخاری، الوضوء، باب غسل الرجلین فی النعلین ولا یمسح الخ، رقم: 166، صحیح مسلم، الحج، باب الاہلال من حیث تنبعث بہ راحلتہ، رقم: 1187۔