السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَرَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ " . قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوج نبی ﷺ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیاد ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا تھا؟“ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ بنیادِ ابراہیم علیہ السلام پر کعبہ کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ کفر تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اگر یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ حطیم کی طرف سے دو کونوں کا استلام چھوڑنا اسی بناء پر ہو گا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں بنایا گیا۔
➋ فتنہ و فساد کے خطرے سے کوئی بھی مباح کام ترک کیا جا سکتا ہے، حکمت عملی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا اس لیے ترک کیا کہ نئے نئے مسلمان ہونے والے سمجھیں گے اب کعبہ گرایا جا رہا ہے۔
➌ عصر حاضر میں خصوصی طور پر دینی ذوق رکھنے والوں کو یہ حدیث زیر مطالعہ رکھنی چاہیے، جو اصلاح کی خواہش میں تخریب و تدمیر کر دیتے ہیں۔
➍ کفار مکہ نے کعبہ پر حرام مال نہ لگایا لیکن آج سود خوری اور حرام مال سے مساجد تعمیر کی جاتی ہیں اصلاح کی ضرورت ہے۔