حدیث نمبر: 474
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ : كَيْفَ كَانَ سَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ . قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَقَدْ دَلَّ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ هَذَا : سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ , أَنَّهُ مِنْ كَلامِ عُرْوَةَ عَلَى مَا ظَنَنَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ هِشَامٍ الَّذِي قَبْلَ هَذَا .
نوید مجید طیب

ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے ان کو اُن کے والد عروہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا (جب میں بھی اُن کے ساتھ تھا، اسامہ رضی اللہ عنہ عرفہ سے مزدلفہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھے) کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح چل کر تشریف لائے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ تیز چلتے آئے جب خالی جگہ ملتی تو اور تیز ہو جاتے۔“ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں نص، عنق سے زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 474
تخریج حدیث مسند الحمیدی: 248/1، 249، رقم: 543 وصححہ ابن خزیمہ: 266/4، رقم: 2845۔