السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 473
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " . قَالَ مَالِكٌ : قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى مِنْ كِنَانَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ . وَهَذَا غَلَطٌ ؛ لأَنَّ هِشَامًا لَمْ يَرَ أُسَامَةَ وَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَجُلٌ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ حَتَّى يَرْجِعَ الْجُلُوسُ إِلَى عُرْوَةَ .نوید مجید طیب
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں بھی اُن کے ساتھ بیٹھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپسی پر کس چال پر چلتے آئے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ پاؤں اٹھا کر ذرا تیز چلتے تھے جب کشادہ جگہ ملتی تو اور تیز چلتے۔“
وضاحت:
➊ «العنق» بمعنی تیز چلنا، «نص» «العنق» سے زیادہ تیز چلنے کے لیے بولا جاتا ہے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا نوٹ کرتے اور اس پر عمل بھی کرتے۔
➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا نوٹ کرتے اور اس پر عمل بھی کرتے۔