حدیث نمبر: 472
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكِ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
نوید مجید طیب

سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی زوجہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: کیا بات ہے لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہو گئے لیکن آپ حلال نہیں ہوئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے سر کی تلبید کی ہے اور ساتھ قربانی کا جانور لایا ہوں تو قربانی کرنے سے پہلے احرام نہیں کھول سکتا۔“

وضاحت:
➊ تلبید بالوں کو جل وغیرہ لگانا تاکہ سمٹے رہیں اور بکھرنے سے محفوظ رہیں۔ اس کا جواز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا احرام لمبی مدت تقریباً دو ہفتے کا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانور ساتھ لائے تھے حج قرآن کیا تھا۔
«قلدت الهدى» قربانی کے جانور کو ہار پہنانا یہ اس جانور کے لیے ہوتا ہے جو ساتھ لایا جائے، دور حاضر میں جانور موقع سے ہی خریدے جاتے ہیں اس لیے ان کو قلادہ کی نوبت یا ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
➌ قلادہ بھی ایک شعار ہے کہ جانور بیت اللہ جا رہا ہے اس سے تعرض نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 472
تخریج حدیث صحیح بخاری، الحج، باب التمتع والاقران والافراد فی الحج، رقم: 1566، صحیح مسلم، الحج، باب القارن لا ینحل الا فی وقت تحلل ...... الخ، رقم: 1229۔