حدیث نمبر: 471
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ لا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ مِنَ الْقَرَنَيْنِ وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبٍ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ : " اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
نوید مجید طیب

عبد اللہ بن حنین رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا مقام ابواء پر محرم کا سر دھونے پر اختلاف ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا محرم سر دھو سکتا ہے جبکہ مسور رضی اللہ عنہ کہتے تھے، نہیں دھو سکتا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے بھیجا تو میں نے انہیں کنوئیں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا کپڑے سے انہوں نے پردہ کیا ہوا تھا میں نے سلام کیا تو کہنے لگے کون ہے؟ میں نے کہا عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ ہوں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ دریافت کروں کہ رسول اللہ ﷺ (حالت احرام میں) سر کیسے دھوتے تھے تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کپڑا تھوڑا ہاتھ سے نیچے کیا حتیٰ کہ اُن کا سر مجھے دکھائی دینے لگا پھر جو بندہ اُن پر پانی بہا رہا تھا اسے کہا بھائی پانی بہاؤ اس نے اُن کے سر پر پانی بہایا پھر انہوں نے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے ملا پہلے دونوں ہاتھ آگے لے گئے پھر پیچھے لائے تو فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔“

وضاحت:
➊ حالت احرام میں غسل کیا جا سکتا ہے سر دھویا جا سکتا ہے۔
➋ اختلاف رائے کے بعد حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹنا اور خبر واحد کی حجیت جیسے عظیم امور حدیث ہذا سے ثابت ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 471
تخریج حدیث صحیح بخاری، جزاء الصید، باب الاغتسال للمحرم، رقم: 1840، صحیح مسلم، الحج، باب جواز غسل المحرم بدنہ ورأسہ، رقم: 1205۔