السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 470
أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ أَبِي الْحُسَامِ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " مَا نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ إِلا وَهُوَ حَلالٌ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : وَسَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَمِمَّا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى تَقْوِيَةِ هَذَا أَنَّ عُمَرَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَدَّا نِكَاحَ مُحْرِمَيْنِ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يَخْطُبُ .نوید مجید طیب
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے احرام کھول کر میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں اس مسئلہ میں مزید تقویت عمر رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فیصلوں سے ہوتی ہے دونوں نے حالت احرام میں نکاح کو مردود قرار دیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”محرم نہ نکاح کرے اور نہ منگنی۔“
وضاحت:
➊ حالت احرام میں محرم پر کچھ پابندیاں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حالت احرام میں نہ نکاح کرے اور نہ ہی پیغام نکاح بھیجے۔ اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو شاذ نہ بھی تسلیم کیا جائے تب بھی قولی اور فعلی حدیث میں تعارض کی صورت میں قول مقدم ہوتا ہے قولی حدیث ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔
➋ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو متقین علماء نے شاذ قرار دیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ حدیث شاذ نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب ہے کہ احرام کے مہینوں میں نکاح کیا یا حرم کے اندر نکاح ہوا۔ البتہ جس کا نکاح ہوا وہ خود فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مقام سرف میں نکاح کیا تھا اور ہم دونوں حلال تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1843]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی پیغام نکاح کے ساتھ دو صحابیوں کو روانہ کر دیا تھا اور پھر مقام سرف پر نکاح ہوا اور یہ 7ھ عمرۃ القضاء کا واقعہ ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر کا نام ابورہم بن عبد العزی تھا اسی مقام پر میمونہ رضی اللہ عنہا 51ھ کو فوت اور دفن ہوئیں۔
➋ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو متقین علماء نے شاذ قرار دیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ حدیث شاذ نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مطلب ہے کہ احرام کے مہینوں میں نکاح کیا یا حرم کے اندر نکاح ہوا۔ البتہ جس کا نکاح ہوا وہ خود فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مقام سرف میں نکاح کیا تھا اور ہم دونوں حلال تھے۔ [سنن ابی داؤد: 1843]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے روانہ ہونے سے قبل ہی پیغام نکاح کے ساتھ دو صحابیوں کو روانہ کر دیا تھا اور پھر مقام سرف پر نکاح ہوا اور یہ 7ھ عمرۃ القضاء کا واقعہ ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر کا نام ابورہم بن عبد العزی تھا اسی مقام پر میمونہ رضی اللہ عنہا 51ھ کو فوت اور دفن ہوئیں۔