حدیث نمبر: 469
عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ لِيَحْضُرَ ذَلِكَ وَهُوَ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ " . قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَبِحَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلا يُنْكِحُ " نَأْخُذُ وَهُوَ مُتَّصِلٌ ثَبْتُ الإِسْنَادِ وَنِكَاحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُرْسُهُ بِهَا فِي عُمْرَةِ الْقَضِيَّةِ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَهُ فِي سَفْرَتَيْهِ مَعًا وَمُقَامِهِ ، وَعُثْمَانُ رَسُولُهُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَبِسَبَبِهِ نَزَلَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ ، وَإِنَّ حَدِيثَهُ عِنْدَنَا فِي هَذَا ثَابِتٌ لِمَا وَصَفْتُ مِنْ مُشَاهَدَتِهِ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : قَدْ يَعْرِفُ أَهْلُ الْمَرْأَةِ مِنْ نِكَاحِهَا وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا حُضُورًا بِالْعِنَايَةِ أَكْثَرَ مِمَّا يَعْرِفُ الْحَاضِرُ الَّذِي لا عِنَايَةَ لَهُ بِهَا كَعِنَايَتِهِمْ وَقَدْ رَوَى عَتِيقُهَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَهَا غَيْرَ مُحْرِمٍ وَرَوَى ابْنُ أُخْتِهَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَهَا غَيْرَ مُحْرِمٍ وَمَعَهُمَا مَا هُوَ أثْبَتُ مِنْهُمَا مِمَّا وَصَفْتُ لَكَ مِنْ رِوَايَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
نوید مجید طیب

عمر بن عبید اللہ رحمہ اللہ نے اپنے بیٹے طلحہ بن عمر رحمہ اللہ کی شادی شیبہ بن جبیر رحمہ اللہ کی بیٹی سے کرنے کا ارادہ کیا دونوں حالت احرام میں تھے تو عمر رحمہ اللہ نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ امیر الحج کو دعوت نامہ ارسال کیا تو انہوں نے عمر رحمہ اللہ کے اس ارادے پر توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”محرم نہ حالت احرام میں خود شادی کرے نہ دوسرے کی شادی کروائے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث عثمان رضی اللہ عنہ متصل السند ہے کہ محرم نہ حالت احرام میں شادی کرے اور نہ کروائے اور رسول اللہ ﷺ کا میمونہ رضی اللہ عنہا سے حدیبیہ کے بعد نکاح کرنا اور شادی عمرۃ قضاء میں کرنا ہے کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان سفروں میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے انہی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا اور بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ کا (محرم کے نکاح کی حدیث بیان کرنا) اُن کا مشاہدہ بھی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ اگر معترض کہے کہ عورت کا رشتہ دار (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما) واقعہ کو زیادہ جانتے ہیں کہ حالت احرام میں نکاح ہوا یا بغیر احرام کے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے اپنے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نکاح احرام کھولنے کے بعد ہوا اور میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس وقت نبی اکرم ﷺ احرام میں نہیں تھے اگر اس کے ساتھ حدیث عثمان رضی اللہ عنہ کو سامنے رکھا جائے تو معاملہ واضح ہے۔

حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 469
تخریج حدیث صحیح مسلم، النکاح، باب تحریم نکاح المحرم، رقم: 1409۔