السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 468
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ مَوْلاهُ وَرَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ فَزَوَّجَاهُ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ " .نوید مجید طیب
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ مولیٰ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنے مولی ابو رافع رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی کو بھیجا اُن دونوں نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے (رسول اللہ ﷺ کے بطور وکیل) رشتہ طے کیا اس وقت رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تھے یہ (عمرہ قضاء) کے لیے نکلنے سے پہلے کی بات ہے۔