حدیث نمبر: 466
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ " وَلا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا " .
نوید مجید طیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گزشتہ روایت کی مانند مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اسے خوشبو نہ لگانا۔

وضاحت:
➊ مذکورہ خوش نصیب تا قیامت حالتِ احرام میں ہے، عام مُردے کو خوشبو لگائی جاتی ہے لیکن محرم چونکہ خوشبو نہیں لگا سکتا لہذا اسی حالت میں فوت ہونے والے کو بھی خوشبو نہیں لگائی جائے گی۔
➋ آدمی جس حالت میں فوت ہو گا اسی پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث السنن المأثورة / باب ما جاء في فدية الأذى / حدیث: 466
تخریج حدیث انظر ما قبلہ، برقم: 465۔