السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 465
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا خَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي " .نوید مجید طیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک آدمی اونٹ سے گرا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے احرام میں ہی کفن دو لیکن سر نہ ڈھانپنا یہ بروز قیامت تلبیہ پڑھتا اٹھایا جائے گا۔“