السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 462
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي يَوْمَ عَرَفَةَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا مِنَ الْحُمْسِ فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ ؟ يَعْنِي بِالْحُمْسِ قُرَيْشًا ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَتَقُولُ : نَحْنُ الْحُمْسُ لا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ " .نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یوم عرفہ کو میں گم شدہ اونٹ کی تلاش میں عرفہ گیا تو دیکھا نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ عرفہ میں وقوف فرما رہے ہیں میں نے (دل میں) کہا یہ تو حمس سے نکل گئے ہیں، انہیں کیا ہوا حرم سے نکل آئے ہیں یعنی حمس قریش سے، قریشی وقوف مزدلفہ میں کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حمس ہیں حدود حرم سے ہم باہر نہیں جائیں گے۔
وضاحت:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ثُمَّ اَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ [البقرة: 199]
"پھر جہاں سے سب لوگ لوٹیں وہیں سے تم بھی لوٹو اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔"
قریش اپنے آپ کو دیگر عرب سے ممتاز گردانتے تھے کہ ہم عیال اللہ ہیں اس لیے حدودِ حرم سے باہر میدانِ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم حرم کی حدود سے باہر نہیں جائیں گے، حرم کی حدود مزدلفہ تک ہے، قریش مزدلفہ میں وقوفِ حج کرتے تھے جبکہ عام عرب وقوفِ عرفہ میں کرتے تھے، اس بدعت کا نام محمس تھا، قریش کی اس بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر ختم کیا۔
➋ اور اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا ہے اور ان کے ساتھ ہی وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ حمس کا مطلب بعض نے پختگی اور حماست اور بعض نے بہادری و شجاعت اور بعض کہتے ہیں کہ کعبہ کا ایک نام الحمساء بھی ہے اسی نسبت سے یہ اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
➌ دین میں ایسی ٹھیکیداری کا کوئی تصور نہیں کہ بڑے اور چھوٹے کے لیے امتیاز روا رکھا جائے یا برادریوں کا اپنا اپنا دین ہو، ایسا ہرگز نہیں، اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
"پھر جہاں سے سب لوگ لوٹیں وہیں سے تم بھی لوٹو اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔"
قریش اپنے آپ کو دیگر عرب سے ممتاز گردانتے تھے کہ ہم عیال اللہ ہیں اس لیے حدودِ حرم سے باہر میدانِ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم حرم کی حدود سے باہر نہیں جائیں گے، حرم کی حدود مزدلفہ تک ہے، قریش مزدلفہ میں وقوفِ حج کرتے تھے جبکہ عام عرب وقوفِ عرفہ میں کرتے تھے، اس بدعت کا نام محمس تھا، قریش کی اس بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر ختم کیا۔
➋ اور اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا ہے اور ان کے ساتھ ہی وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ حمس کا مطلب بعض نے پختگی اور حماست اور بعض نے بہادری و شجاعت اور بعض کہتے ہیں کہ کعبہ کا ایک نام الحمساء بھی ہے اسی نسبت سے یہ اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔
➌ دین میں ایسی ٹھیکیداری کا کوئی تصور نہیں کہ بڑے اور چھوٹے کے لیے امتیاز روا رکھا جائے یا برادریوں کا اپنا اپنا دین ہو، ایسا ہرگز نہیں، اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے