السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 463
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ خَالٍ ، لَهُ قَالَ : كُنَّا فِي مَوْقِفٍ لَنَا بِعَرَفَةَ قَالَ سُفْيَانُ : يُبْعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الإِمَامِ جِدًّا فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ : " أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَكُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .نوید مجید طیب
عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ اپنے ماموں (یزید بن شیبان) سے بیان کرتے ہیں کہ ہم عرفات میں رسول اللہ ﷺ کی جائے وقوف سے کافی دور تھے کہ ہمارے پاس ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ ”اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو تم اپنے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کی وراثت پر قائم ہو۔“
وضاحت:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبلِ رحمت کے قریب وقوف کیا چونکہ ہر بندہ وہاں نہیں ٹھہر سکتا نہ اتنے جمِ غفیر کے لیے اتنی جگہ کافی ہے لہذا فرمایا: پورا عرفات ہی موقف ہے جہاں جگہ ملے ٹھہر جاؤ ثواب برابر ہے۔
➋ «إرث أبيكم إبراهيم» کا مطلب ہے یہ نیا حکم نہیں بلکہ یہ وہ حکم ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام عمل پیرا تھے، لہذا امام سے دوری کو اپنے لیے حقیر نہ سمجھو جہاں جگہ ملے وہیں وقوف کر لو۔
➋ «إرث أبيكم إبراهيم» کا مطلب ہے یہ نیا حکم نہیں بلکہ یہ وہ حکم ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام عمل پیرا تھے، لہذا امام سے دوری کو اپنے لیے حقیر نہ سمجھو جہاں جگہ ملے وہیں وقوف کر لو۔