السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 461
عَنْ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ : " لا يَحِلُّ مُحْرِمٌ بِحَجٍّ وَلا عُمْرَةٍ حَبَسَهُ بَلاءٌ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ إِلا مَنْ حَبَسَهُ عَدُوٌّ فَإِنَّهُ يَحِلُّ حَيْثُ حُبِسَ ، وَمَنْ حُبِسَ فِي عُمْرَةٍ بِبَلاءٍ مَكَثَ عَلَى حَرَمِهِ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ثُمَّ يَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِهِ ، فَإِنْ مَنَعَهُ عَدُوٌّ فِي عُمْرَتِهِ تِلْكَ حَلَّ حَيْثُ حَبَسَهُ " ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : هَكَذَا قَرَأَهُ الْمُزَنِيُّ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ وَإِنَّمَا هُوَ حَلَّ حَيْثُ حَبَسَهُ ثُمَّ رَجَعَ حَلالا ثُمَّ اعْتَمَرَ بَعْدَ إِذَا أَمِنَ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ حَبَسَهُ بَلاءٌ حَتَّى يَفُوتَهُ الْحَجُّ طَافَ إِذَا بَلَغَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَقَ أَوْ قَصَّرَ ثُمَّ رَجَعَ حَلالا مِنْ حَجِّهِ حَتَّى يَحُجَّ عَامَ قَابِلٍ وَيُهْدِي فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا صَامَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ .نوید مجید طیب
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ محرم (احرام والا) جس کو کسی رکاوٹ نے روک لیا ہو حج وعمرہ کا احرام بیت اللہ کا طواف کیے بغیر نہ کھولے ہاں اگر دشمن نے روک لیا تو اسی مقام پر احرام کھول دے اور جس کو عام بیماری وغیرہ نے روکا ہو وہ حالت احرام میں ہی رہے حتیٰ کہ بیت اللہ کا طواف کر لے پھر اپنے عمرے سے حلال ہو۔
وضاحت:
ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مزنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب سے ایسے ہی پڑھ کر سنایا احرام والے شخص کو جہاں دشمن نے روکا وہاں ہی احرام کھول دے پھر حلال ہو کر لوٹ جائے پھر حالتِ امن میں عمرہ اداء کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیبیہ کے بعد قضاء عمرہ) اداء کیا تھا اگر کوئی ایسی رکاوٹ واقع ہوئی کہ حج فوت ہو گیا تو مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے پھر بال کٹوائے یا ٹنڈ کروائے (یعنی عمرہ کر کے) وطن واپس حلال ہو کر چلا جائے پھر آئندہ سال حج کرے اور قربانی بھی دے اگر قربانی نہ پائے تو دس روزے رکھے، تین ایامِ حج میں اور سات وطن جا کر۔