السنن المأثورة
باب ما جاء في فدية الأذى— ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
باب ما جاء في فدية الأذى باب: ایذا اور رکنے پر فدیہ کا بیان
حدیث نمبر: 459
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ شَيْءٍ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ ؟ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ ، قَالَ : " فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .نوید مجید طیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کسی چیز کا سوال کرنے آئی آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ (ابھی چلی جاؤ) دوبارہ آنا کہنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں دوبارہ آئی اور آپ کو نہ پایا تو راوی کہتے ہیں اس عورت کا موت کی طرف اشارہ تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ”(پھر تو) ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا۔“
وضاحت:
➊ اس حدیث شریف میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بلا فصل ہونے کی طرف واضح رہنمائی ہے، اس کے علاوہ بھی خلافتِ ابو بکر رضی اللہ عنہ پر بہت سے ادلہ موجود ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ امامت کا اہل سمجھا تھا۔ ➋ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وفاتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدہ رکھتے تھے۔